کب اور کیسے بائبل کی مقدس کتابوں کا مجموعہ اکٹھا کیا گیا تھا ؟




سوال: کب اور کیسے بائبل کی مقدس کتابوں کا مجموعہ اکٹھا کیا گیا تھا ؟

جواب:
" مقدس کتابوں کا مجموعہ " کی اصطلاح اُن کتابوں کو بیان کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے جو کہ روحانی طور پر الہام پذیر ہوئی ہیں اور تاہم بائبل میں موجود ہیں ۔ بائبل کی مقدس کتابوں کے مجموعہ کو وضح کرنے میں مُشکل یہ ہے کہ بائبل ہمیں اُن کتابوں کی ایک فہرست مہیا نہیں کرتی ہے جو کہ بائبل میں شامل ہیں ۔ مُقدس کتابوں کے مجموعہ کو وضح کرنے کا کالم س سے پہلے یہوی فقہیوں اور عالموں نے اور بعد میں ابتدائی مسیحیوں نے کیا تھا ۔ آخر کار یہ خدا ہی تھا جس نے یہ فیصلہ کیا کہ کونسی کتابوں کا تعلق اِس مجموعہ سے ہے ۔ مُقدس کلام کی ایک کتاب اُس لمحے سے اِس مجموعہ میں شامل ہے جب سے خدا نے اِسے الہامی طریقے سے لکھنا شروع کیا ۔ یہ واضح طور پر خدا کا اپنے انسانی پیروکاروں کو قائل کرنے کا معاملہ تھا کہ کون سی کتابوں کو بائبل میں شامل ہونا چاہیے ۔

نئے عہد نامہ سے موازنہ کرنے پر پُرانے عہد نامہ کے کتابوں کے مجموعہ کی فہرست میں ایک چھوٹا سا اختلاف پایا جاتا تھا ۔ عبرانی خدا کے پیامبروں کے طور پر تسلیم کیے گئے ہیں اور اُن کی تصانیف خدا کے الہام کے طور پر قبول کی گئیں ہیں ۔ جبکہ پُرنے عہد نامہ کی کتابوں کے مجموعہ سے متعلق چند نا قابلِ اِنکار مباحثے تھے ، 250 قبل از مسیح سے عبرانیوں کے کلام کی کتابوں کے مجموعہ میں تقریبا ً عالم گیر مطابقت پائی جاتی تھی ۔ محض ایک مسئلہ جو باقی رہ جاتا ہے وہ اسفارِ محرفہ ہے جس پر آج بھی مباحثے اور بیانات جاری ہیں ۔ عبرانی عالموں کی ایک وسیع اکثریت خیال کر تی ہے کہ اسفارِ محرفہ ایک تاریخی اور مذہنی دستاویز ہے، لیکن یہ بالکل اُس درجہ پر نہیں ہے جس پر عبرانیوں کا صحیفہ ہے ۔ کیونکہ نئے عہد نامے کی شناخت اور جمع کرنے کا کام ابتدائی صدیوں سے شروع ہوا ۔ بہت شروع میں نئے عہد نامے کی چند کُتب تسلیم کی جا رہی تھیں ۔ پوُلس نے لوقا کی تصانیف کو اتنا ہی معتبر خیال کیا جیسے کہ پُرانا عہد نامہ ہے ( 1 تیمتھیس 5 : 18 ، استثنا 25 : 4 اور لوقا 10 : 7 بھی دیکھیے ) پطرس نے پولس کی تصانیف کا کلام کے طور پر اِس کی سچائی کا ادراک کیا ہے ( 2 پطرس 3 : 15 ۔ 16 ) نئے عہد نامے کی کتابوں میں سے چند ایک کلیسیاوں میں گردش کر رہی تھیں ( کُلسیوں 4 : 16 ، 1 تھسلینکیوں 5 : 27 ) روم کے کلیمنٹ ( مہربان) نے نئے عہد نامہ کی تقریبا ً آٹھ کُتب کی نشاندہی کی ہے ( 95 بعد از مسیح ) اینٹیوک کے اگنیشیس نے سات کُتب کا اعتراف کیا ہے ( 115 بعد از مسیح) یوحنا رسول کے ایک شاگرد پولی کراپ نے 22 کُتب کی سچائی کا ادراک کیا ( 170 ۔ 235 بعد از مسیح) ۔ نئے عہد نامے کی وہ کُتب جن میں سب سے زیادہ اختلاف پایا گیا وہ ، عبرانیوں ، یعقوب، 2 پطرس ، 2 یوحنا اور 3 یوحنا ہیں ۔ پہلا مجموعہ " میوریٹورین کا وضح کر دہ مجموعہ تھا ، جس کی 170 بعد از مسیح میں تالیف کی گئی تھی ۔ میوریٹورین مجموعہ میں عبرانیوں ، یعقوب اور 3 یوحنا کے سوائے نئے عہد نامہ کی ساری کُتب شامل تھیں ۔ 363 بعد از مسیح میں لادوسیا کی کونسل نے بیان دیا کہ صرف پُرانہ عہد نامہ ( اسفارِ محرفہ) کے ساتھ ) اور نئے عہد نامہ کی 27 کُتب کلیسیاوں میں پڑھی جانی چاہییں ۔ ہیپو کی کونسل ( 393 بعد از مسیح) نے اور کیرتھیج کی کونسل (397 بعد از مسیح ) نے بھی اِنہی 27 کتابوں کو معتبر قرا ر دیا تھا ۔

کونسلوں نے یہ تعین کرنے کے لیے کہ نئے عہد نامہ کی ایک کتاب حقیقی طور پر روح القدس کی طرف سے الہام پذیر ہوئی تھی ، نیچے دئیے گئے اِسی طرح کے چند قواعد و ضوابط کی پیروی کی تھی ۔

1۔ کیا مصنف ایک رسول تھا یا ایک رسول کے ساتھ گہرا تعلق رکھتا تھا ؟

2۔ کیا کتاب وسیع پیمانے پر مسیح کے جسم کے طور پر قبول کی جا رہی ہے ؟

3۔ کیا کتاب میں عقائد اور مذہبی تعلیمات کی تکرار موجود ہے ؟

4 ۔ کیا کتاب اعلیٰ اخلاقی اور روحانی اقدار کی گواہی پیش کر تی ہے جو کہ روح القدس کے کام کی عکاسی ہیں ؟ دوبارہ پھر ، یہ یاد رکھنا نہایت ہی مُشکل کام ہے کہ کلیسیا مقدس کتابوں کے منموعہ کو وضح نہ کر سکی ۔ نہ ابتدائی کلیسیا ئی کونسل نے کتابوں کے مجموعہ پر فیصلہ دیا تھا ۔ یہ خدا اور صرف خدا ہی ہے ، جو کہ اِس بات کا تعین کرتا ہے کہ کون سی کُتب بائبل میں شامل ہیں ۔ یہ واضح طور پر خدا کا اپنے ماننے والوں کے لیے عنایت کا معاملہ ہے کہ وہ کیا پہلے فیصلہ کر چُکا ہے ۔ بائبل کی کُتب کو جمع کرنے کا انسانی عمل ادھورا تھا ، لیکن خدا نے اپنے اعلیٰ اختیار میں اور ہماری جہالت اور ہٹیلا پن کے باوجود ابتدائی کلیسیا کو کُتب کی شناخت سے بہرہ مند کیا ، جن کو اُس نے الہام پذیر کیا تھا ۔



واپس اردو زبان کے پہلے صفحے پر



کب اور کیسے بائبل کی مقدس کتابوں کا مجموعہ اکٹھا کیا گیا تھا ؟