كيا مسيحيوں كو پرانے عهدنامے كے قانون كي فرمانبرداري كرني چاهيے؟




سوال: كيا مسيحيوں كو پرانے عهدنامے كے قانون كي فرمانبرداري كرني چاهيے؟

جواب:
اس خاص مسئلے كو سمجھنے كے لئے يه جاننا چاهيے كه پرانے عهدنامے كے قانون اسرائيلي قوم كو دئيے گئے تھے، مسيحيوں كو نهيں۔ كچھ قوانين اسرائيليوں كے لئے بنائے گئے تھے كه وه جانيں كے كيسے خدا كي فرمانبرداری كرني هے اور كيسے خدا كو خوش كرنا هے ﴿مثال كے طور پر دس احكام﴾، ان ميں سے كچھ ظاهر كرتے تھے كه كيسے خدا كي عبادت كي جائے ﴿جیسے کہ سوختني قر باني كا طريقه﴾، ان ميں كچھ اسرائيليوں كو دوسری قوموں سے الگ ركھنے كے لئے بنائے گئے ﴿ جیسے کہ كھانے اور پہننے كے اصول﴾۔ پرانے عهدنامے كے قانون آج كے دور ميں ہم پر لاگو نهيں هوتے۔ جب يسوع صليب پر مُوا، اس نے پرانے عهد نامے كے قانون كو ختم كرديا ﴿روميوں10باب4آيت؛ گلتيوں3باب23تا25آيت؛ افسيوں2باب15آيت﴾۔

پرانے عهدنامے كي جگه ہم مسيح كے قانون كے پابند ہيں، ﴿گلتيوں6باب2آيت﴾ جو كه، "اس نے اس سے كها كه خداوند اپنے خدا سے اپنے سارے دل اور اپني جان اور اپني ساری عقل سے محبت ركھ۔ بڑا اور پہلا حكم يهي هے۔ اور دوسرا اسكي مانند يه هے كه اپنے پڑوسي سے اپنے برابر محبت ركھ۔ انہی دو حكموں پر تمام توريت اور انبيا كي صحيفوں كا مدار هے"﴿متي 22باب37تا40آيت﴾۔ اگر ہم يه دونوں احکام کو مانتے ہیں تو ہم یقینی طور پر اُن سب باتوں پر عمل کرتے ہیں جو مسیح ہم سے توقع کرتا ہے۔ "اور خدا كي محبت يه هے كه ہم اسكے حكموں پر عمل كريں اور اسكے حكم سخت نهيں "﴿1۔يوحنا5باب3آيت﴾۔ اصطلاحي طور پر ، دس احكام مسيحيوں كے لئے ضروري نهيں۔ اس كے باوجود، دس احكام ميں سے نو﴿9﴾ احكام نئے عهد نامے ميں دهرائے گئے ہيں﴿ماسوائے سبت كے دن كو ماننا﴾۔ ظاهری طور پر، اگر ہم خدا سے پيار كرتے ہيں توہم دوسرے خداؤں كي عبادت نهيں كريں گے يا بتوں كي عبادت نهيں كريں گے۔ اگر ہم اپنے پڑوسيوں سے پيار كرتے ہيں تو ہم ان كا قتل نهيں كريں گے، ان سے دغا نهيں كريں گے، ان كے خلاف بدفعلي نهيں كريں گے، يا ان كے مال كا لالچ نهيں كريں گے۔

اِس سے مُراد یہ نہیں کہ پرانا عہد نامہ آج کے وقت میں غیر معتبر یا غیر ضروری ہے کیونکہ پرانا عہد نامہ ایک اچھی راہنمائی کرتا ہے یہ جاننے کے لیے کہ ہم خدا سے کس طرح پیار کر سکتے ہیں ، اور اِس کا کیا مطلب ہے کہ ہم اپنے پڑوسی سے اپنی مانند محبت رکھیں۔ اور ایک ہی وقت میں یہ کہنا ٹھیک نہیں ہو گا کہ پرانے اور نئے عہد نامے کی پاسداری کی جائے۔ پس، ہم پرانے عهد نامے كے كسي قانون كي گرفت ميں نهيں۔ ہميں خدا سے پيار كرنا چاهيے اور اپنے پڑوسيوں سے پيار كرنا چاہيے۔ اگر ہم يه دونوں چيزيں ايمانداری كے ساتھ كرتے ہيں، تو پھرمسیح کے قول کے مطابق ہم پوری کی پوری شریعت پر عمل کر چکے۔



واپس اردو زبان کے پہلے صفحے پر



كيا مسيحيوں كو پرانے عهدنامے كے قانون كي فرمانبرداري كرني چاهيے؟