كلامِ مقدس مسيحي ده يكي كے بارے ميں كيا كهتا هے؟




سوال: كلامِ مقدس مسيحي ده يكي كے بارے ميں كيا كهتا هے؟

جواب:
ده يكي ايک ايسا معامله جس سے آج بهت سے مسيحي نبردآزما ہيں۔ بهت سي كليسياؤں ميں ده يكي پر بهت زور ديا جاتا هے۔ ايک ہي وقت ميں، بهت سے مسيحي اپني شكرگزارياں كلامِ مقدس كي ترغيب و نصيحت كي روشني ميں خدا كو پيش كرنے سے انكار كرتے هيں۔ ده يكي يا خوشي سے دينا، باعثِ بركت هے۔ افسوس كے ساتھ، يه عمل آج گرجا گھروں ميں سے ختم هوتا جارہا هے۔

ده يكي پرانے عهدنامے كا تصور هے۔ ده يكي شريعت كے مطابق ايک قانون تھا جس كے مطابق تمام اسرائيلي اپني كمائي يا پيداوار کا% 10 ﴿دس في صد﴾حصه خيمه اجتماع يا گرجا گھر ميں لاتے ﴿احبار27:30؛ گنتي18:26؛ استثنا14:24؛ 2 تواريخ31:5﴾۔ پرانے عهدنامے ميں كچھ لوگوں نے ده يكي كو ايک قسم كا ٹيكس ادا كرنا كا ايک طريقه سمجھا تاكه كاهنوں اور لاوی جو قربان گاه ميں آيا جايا كرتے تھے ان كي ضروريا ت كو پورا كيا جا سكے۔ نيا عهد نامه ميں ده يكي كا حكم كهيں بھي نهيں، يهاں تک كه مسيحي كسي قسم كے شرعي ده يكي كے نظام كو مانيں۔ پولوس بيان كرتا هے كه ايماندار كو چاهيے كه وه اپني آمدني كا كچھ حصه كليسيا ﴿گرجا گھر﴾كي مدد كے لئے ركھے ﴿1 كرنتھيوں16:1 2﴾۔

نيا عهد نامے كهيں بھي يه نهيں كهتا كه اپني آمدني خاص حصه ﴿في صد﴾ الگ ركھا جائے، مگر صرف يه كها گيا ..."اپني آمدني كے موافق كچھ اپنے پاس ركھ چھوڑا كرے... "﴿1 كرنتھيوں16:2﴾۔ مسيحي كليسيائيں خاص طور پر پرانے عهدنامے كے مطابق % 10 ﴿في صد﴾ده يكي ليتي ہيں اور اسے لاگو كرتي ہيں جيسے "يه كم از كم تجويز كرده"حصه مسيحيوں كے ليے ضروری هے۔ تاہم ، مسيحي ده يكي كو دينا ضروری نهيں جانتے۔ وه اتنا ہي ديتے ہيں جتنا وه دے سكتے ہيں جيسے .."اپني آمدني كے موافق كچھ اپنے پاس ركھ چھوڑا كرے... "۔ اكثر اس كا مطلب يه هے كه ہميں ده يكي سے زياده بھي دينا هوتا هے، اكثر اس كا مطلب يه هے كه ہميں ده يكي سے كم بھي دينا هوتا هے۔ يه سب ايک مسيحي كي استطاعت پر منحصر هے اور كليسيا كي ضرورت پر، هر ايک مسيحي كو چاهيے كه وه بڑی سرگرمي سے دعا اور خدا سے حكمت كے لئے طالب رهے جيسا كه وه دوسرے كاموں ميں شريک هے ويساہي ده يكي دينے ميں بھي مرد هو يا عورت شريک هو .﴿يعقوب1:5﴾۔ "جس قدر هر ايک نے اپنے دل ميں ٹھہرايا هے اسي قدر دے نه دريغ كركے اور نه لاچاری سے كيونكه خدا خوشي سے دينے والے كو عزيز ركھتا هے"﴿2 كرنتھيوں9:7﴾۔ اِن سب باتوں سے بڑھکر دہ یکی اور ہدیہ جو بھی ادا کیا جائے خالص دلی سے کیونکہ یہ بھی خداوند کی عبادت کا ایک حصہ ہے اور مسیح کے بدن کی خدمت کرنا ہے۔ اوربہت سارے ممالک میں آج کے دور میں ہدیہ اور دہ یکی سے پوری دنیا میں انجیل کی منادی کا کام کیا جاتا ہے اور یہی ایک اِس پیسے کے سہی استعمال کا زریعہ ہے جس میں ہمیں شاید دہ یکی سے بڑھکر بھی دینا پڑسکتا ہے تاکہ اُن لوگوں تک بھی انجیل کی خوشخبری کا پیغام پہنچ سکے جو آج تک بھی اپنے منجی یسوع المسیح سے بے خبر ہیں۔



واپس اردو زبان کے پہلے صفحے پر



كلامِ مقدس مسيحي ده يكي كے بارے ميں كيا كهتا هے؟