كيا خدا حقيقت هے؟ ميں كيسے جان سكتا هوں كه خدا حقيقت هے؟




سوال: كيا خدا حقيقت هے؟ ميں كيسے جان سكتا هوں كه خدا حقيقت هے؟

جواب:
هم جانتے هیں که خدا حقیقت هے کیونکه وه اپنے آپ کو هم پر تین طریقو ں سے ظاهر کرتا هے: خلق کرنے سے، اپنے کلام سے، اور اپنے بیٹے یسوع مسیح سے۔

سب سے زیاده بنیادی ثبوت صرف یه هے که اس نے جوکچھ بنایا۔ " کیونکه اس کے اندیکھی صفتیں یعنی اسکی ازلی قدرت اور الوهیت دنیا کی پیدائش کے وقت سے بنائی هوئی چیزوں کے ذریعے سے معلوم هو کر صاف نظر آتی هے یهاں تک که ان کو کچھ عذر باقی نهیں"﴿رومیوں1باب20آیت﴾۔"آسمان خدا کا جلال ظاهر کرتا هے اور فضا اسکی دستکاری دکھاتی هے"﴿19زبور1آیت﴾۔

اگر میں کھیت میں سے کلائی پر باندھنے والی گھڑی ملتی هے، میں یه نهیں مانوں گا که یه کهیں باهر سے "نمودار "هوئی هے یا یه پهلے سے موجود تھی۔ گھڑی کے خاکے کی بنیاد پر ، میں یه اندازه لگاؤں گا که اس کا کوئی بنانے والا هے۔ مگر جب میں بڑی کاریگری اور دنیا کے چاروں طرف باقاعدگی دیکھتا هوں۔ همارے وقت کی پیمائش کلائی پر باندھنے والی گھڑی پر منحصر نهیں، لیکن خدا کی دستکاری لگاتار زمین کی مستقل گردش ﴿اورسیزیم 133 اٹیم کی تابکاری کے خصوصیات﴾۔ کائنات ایک عظیم خاکا ظاهر کرتی هے، اور یه ایک عظیم خالق کی دلیل دیتی هے۔

اگر میں خفیه تحریری پیغام پاتا هوں، تو میں ضرور کسی خفیه تحریر پڑھنے والے کی مدد لوں گا۔ میرے خیال میں اس پیغام کو بھیجنے والا ذهین هے، جس کسی نے اس خفیه تحریر کو بنایا۔ ڈی این اےایک کیسا پیچیده "کوڈ"هے جس کوهم اپنے جسم کے هر خلیه میں لئے پھرتے هیں؟ کیا یه پیچیدگی اور ڈی این اے کوڈ کا مقصدایک ذهن مصنف کی دلیل نهیں دیتا؟

خدا نے اس دنیا کو پیچیده نهیں بلکه بهت باکمال طریقے سے سنوارا هے، اس نے ابدی زندگی کے شعور کو هر انسانی دل میں نقش کردیا هے ﴿واعظ3باب11آیت﴾۔ بنی نوع انسان کو پیدائشی طور پر اس بات کا شعور هے که جهاں نگاه جاتی هے وهاں زندگی هے، که اس زمینی زندگی سے اوپر بھی کوئی وجود هے۔ هماری ابدیت کی حس واضع کرتی هے که کم از کم دو طریقے هیں: قوانین بنانا اور عبادت۔

هر تهذیب یقینا اچھے قوانین کی شروع سے قدر کرتی هے ، جو که حیران کن طور پر ایک جیسے هیں ثقافت سے ثقافت ۔ مثال کے طور پر ، مثالی پیار عالم گیر طور پر سراها جاتاهے، دغا بازی کے عمل کی عالم گیر طور پر ملامت کی جاتی هے۔ یه مشترکه ضابطه اخلاق اس کرئه ارض کے اچھے اور برے میں اتفاقِ رائے هے سب سے اعلیٰ نیک انسان کو هم نے معمولی سمجھا۔

ایسے هی ، دنیا کے تمام لوگ، تهذیب سے بے خبر هیں، همیشه سے عبادت کے طریقه کار کو سمجھتے هیں۔ عبادت کے مقاصد بدلتے رهتے هیں، لیکن "عظیم طاقت"کی تمیز ناقابلِ انکار بنی نوع انسان کے لئے۔ هماری عبادت کے لئے رغبت اس لئے هے که خدا همارا خالق هے "اس نے همیں اپنی صورت پر بنایا هے"﴿پیدائش1باب27آیت﴾۔

خدا خود اپنے آپ کو هم پر ظاهر کرتا هے اپنے کلام کے ذریعے جو کہ کلامِ مقدس ہے ۔ کلامِ کے شروع سے، خدا اپنے وجود کے بارے میں خود سچے ثبوت پیش کرتا هے﴿پیدائش 1باب1آیت؛ خروج3باب14آیت﴾۔ جب بینجمن فرینکلن نے اپنی سوانح عمری لکھی ، اس نے اپنے وجود کو ثابت کرنے کی کوشش میں وقت ضائع نهیں کیا۔ اسی طرح، خد انے اپنی کتاب میں اپنے وجود کو ثابت کرنے کے لئے زیاده وقت صرف نهیں کیا۔ کلامِ مقدس میں زندگی تبدیل کرنے کی قدرت هے، اس کی سا لمیت، اورمعجزئے جو اس تحریر کے ساتھ هیں کافی هونگے ایک قریبی نگاه کے جواز کے لئے۔

تیسرا طریقه جس سے خدا اپنے آپ کو ظاهر کرتا هےوہ اپنے بیٹے کے ذریعے، یسوع مسیح ﴿یوحنا14باب6تا11آیت﴾۔ "ابتدا میں کلام تھا اور کلام خدا کے ساتھ تھا اور کلام خدا تھا...اور کلامجسم هوا اور فضل اور سچائی سے معمور هوکر همارے درمیان رها" ﴿یوحنا1باب1اور14آیت﴾۔ یسوع مسیح میں "کیونکه الوهیت کی ساری معموری اسی میں مجسم هوکر سکونت کرتی هے"﴿کلسیوں2باب 9آیت﴾۔

یسوع کی حیران کن زندگی میں ، اس نے پرانے عهدنامے کے قوانین کو مکمل طور پر پور ا کیا اور مسیحا کے بارے میں جو پیشن گوئیاں تھیں وه پوری هوئیں ﴿متی 5باب17آیت﴾۔ اس نے بیشمار خدا پرستی کے کام کئے اور عوامی معجزات اسکے پیغام کی صداقت کو ثابت کرتے هیں اور اسکی خدائی کے گواه هیں ﴿یوحنا21باب24تا25﴾۔ پھر، اس کے مصلوب هونے کے تین دن بعد، وه مردوں میں سے جی اُٹھا، اس حقیقت کے سینکڑوں چشم دیده گواه هیں ﴿1۔کرنتھیوں15باب6آیت﴾۔ تاریخی "ثبوت"کثرت سے قلمبند کئے گئے هیں که یسوع کون هے۔ جیسا کہ پولوس رسول کهتا هے ، "یه ماجرا کهیں کونے میں نهیں هوا"﴿اعمال 26باب26آیت﴾۔

هم محسوس کرتے هیں که یهاں پر همیشه سے هی بے اعتقاد لوگ موجود هیں جو اپنے ذاتی خیال خدا کے بارے میں رکھتے هیں جبکه ثبوت کو بھی پڑھتے هیں۔ اور یهاں پر کچھ ایسے بھی هیں جو ثبوت کے بغیر هی قائل هو جائیں گے ﴿14زبور1آیت﴾۔ یه سب ایمان کی وجه سے هوتا هے ﴿عبرانیوں11باب6آیت﴾۔



واپس اردو زبان کے پہلے صفحے پر



كيا خدا حقيقت هے؟ ميں كيسے جان سكتا هوں كه خدا حقيقت هے؟