کیا خدا حقیقت ہے؟ میں کس طرح یقین کے ساتھ جانوں کہ خدا حقیقت ہے؟



سوال: کیا خدا حقیقت ہے؟ میں کس طرح یقین کے ساتھ جانوں کہ خدا حقیقت ہے؟

جواب:
خدا کے وجود کے لئے بنیادی ثبوت سیدھے طریقے سے اسکی بنائی ہوئی چیزیں ہیں۔ "کیونکہ خداکی ان دیکھی صفتیں یعنی اس کی ازلی قدرت اور الوہیت دنیا کی پیدائش کے وقت سےبنائی ہوئی چیزوں کے ذریعہ معلوم ہو کر صاف نظر آتی ہیں، یہاں تک کہ ان کو کچھ عذر باقی نہیں" (رومیوں 1:20)۔ "آسمان خدا کا جلال ظاہر کرتاہے اور فضا اس کی دستکاری دکھاتی ہے" زبور شریف 19:1)۔

اگر آپ کسی کھیت کے بیچوں بیچ ایک کلائی گھڑی پالیتے ہیں تو آپ یہ گمان کر سکتے کہ یہ انجان طریقہ سے یونہی ظاہر ہوگئی یا پھر یہ پہلے سے ہی وجود میں آئی ہوئی ہے۔ مگر گھڑی کی بنیادی بناوٹ کو دیکھ کر آپ یہ اندازہ لگا لیں گے کہ اس کا بنانے والا کوئی ہے۔ بلکہ اس سے بڑی چیزوں کی بناوٹ اور دُرستگی ہماری دنیا کے چاروں طرف موجود ہے۔ ہمارے وقت کا ناپ تول ہمارے کلائی گھڑیوں ک بنیاد پر نہیں ہے بلکہ خدا کی دستکاری پر منحصر کرتاہے۔ یعنی کہ زمین کا چکر لگانا اور شعاع زن (جس میں گرم تابی سے برق پیما وغیرہ کو متاثر کرنے کی قوت ہو) یہ سب سیسیم 133 اوٹم کے تحت آتے ہیں۔ کائنات خود ایک عظیم تدبیر وتجویز کی اداکاری نبھاتی ہے اور یہ ایک عظیم دستکار کی بابت بحث کرتی ہے۔

اگر آپ کوئی بغیر اشارہ کاپیغام پاتے ہیں تو آپ اس اشارہ کے کلام کو توڑنے کی کوشش کریں گے۔ آپ کی خود بینی یہی ہوگی کہ ایک چالاک پیغام بھیجنے والا ہے جس نے اشارہ کے کلام کو بنایا۔ ہمارے جسم کے ہر ایک خلیہ میں ڈی این اےکے اشارہ کی زبان کتنی پیچیدہ ہے جسے ہم اپنے میں لئے پھرتے ہیں؟ کیا یہ ڈی این اے کا سبب اور پیچیدگی ایک ہوشیار اشارہ کی زبان لکھنے والے کی طرف اشارہ نہیں کرتا؟

نہ صرف خدا نے ایک پیچیدہ اور سجا سجایا قدرتی دنیا بنائی بلکہ اس نے ہر ایک انسان کے دل میں ابدیت کا حساس بٹھایا (واعظ 3:11)۔ بنی انسان کے پاس ایک پیدائشی فرمان الہی ہے جو زندگی سے زیادہ آنکھوں کو ملتی ہے اس کی تسلی بخشی ہے کہ اس زمینی گردش سے اونچا ایک وجود ہے۔ ہماری ابدیت کاحساس خود ہی کم از کم دو طریقوں سے ظاہر ہوتی ہے: ایک ہے قانون کابنایا جانا اور دوسرا ہے عبادت۔

تاریخ کی تمام تہذیبوں کے پاس ایک اپنی قدر و قیمت رکھنے والی اخلاقی قوانین موجود ہیں جو کہ حیرت زدہ طریقہ سے ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں۔ مثال بطور محبت کامعیار جس کو عالم گیر طریقہ سے لحاظ کیاگیا ہے۔ جبکہ جھوٹ بولنے کی گندی عادت کو پوری دنیا میں لعنتی قرار دیاگیا ہے۔ یہ صحیح اور غلط کی عالم گیر سمجھ اس ایک عظیم اخلاقی شخصیت کی طرف اشارہ کرتا ہے جس نے اس طرح کی بصیرت عطا کی ہے۔

اس طرح تمام دنیا کے لوگ تہذیب کے بلالحاظ‍ ہیں انہوں نے ہمیشہ ہی عبادت کی پابندی کو جاری رکھا ہے۔ ان کی عبادت کی شئے کچھ بھی رہی ہو مگر ایک عظیم طاقت کا احساس بنی انسان کی بے انکاری کاحصہ ہے۔ عبادت کے لئے ہمارا رجحان اس سچائی کے مطابق ہے کہ خدا نے ہم کو اپنی صورت پر پیدا کیا ہے۔ (پیدائش 1:27)۔

خدا نے خود کو اپنے کلام بائبل کے وسیلہ سے بھی ظاہر کیا ہے۔ تمام نوشتوں میں خدا کے وجود کو ایک خود مظاہرہ کی سچائی بطور برتاؤ کیاگیا ہے (پیدائش 1:1؛ خروج 3:14)۔ جب ایک آدمی ایک آپ بیتی لکھتا ہے تو اپنے وجود کو ثابت کرنے کی کوشش میں وقت ضائع نہیں کرتا۔

اسی طرح خدا نے اپنی کتاب میں اپنے وجود کو ثابت کرنے کے لئے زیادہ وقت نہیں لگایا۔ زندگی تبدیل کرنے کی فطرت رکھنے والی بائبل اس کی وفاداری اور معجزے جو اس کی تحریر کے ساتھ ساتھ چلتے ہیں یہ قیربی نظر کے معقول وجہ کے لئے کافی ہوں گے۔

ایک تیسرا طریقہ ہے جس میں خدا خود کو ظاہر کرتاہے وہ اس کے بیٹے یسوع مسیح کے وسیلہ سے ہے (یوحنا 11-6 :14)۔ "ابتدا میں کلام تھا اور کلام خدا کے ساتھ تھا اور کلام خدا تھا اورکلام مجسم ہوا اور فضل اور سچائی سے معمور ہو کر ہمارے درمیان رہا اور ہم نے اسکا ایسا جلال دیکھا جیسا باپ کے اکلوتے کا جلال"۔ (یوحنا 14، 1:1 اور کلیسیوں 2:9 کو بھی دیکھیں)۔

یسوع میں اچھنبا کرنے والی زندگی ہے۔ اس نے کامل طور سے تمام پرانے عہدنامے کی شریعت کو پورا کیا اور مسیحا کے دنیا میں آنے کی نبوت کو پوراکیا (متی 5:17)۔ اپنی خدمت کے دروان اس نے بے شمار لوگوں پر ترس کھایا۔اور عوام کے بیچ معجزے انجام دیئے تاکہ اپنے پیغام کی تصدیق کر سکے اور خودکےالہی ہونے کی گواہی پیش کر سکے (یوحنا 25-24 :21)۔ پھر اس کی صلیبی موت کے تیسرے دن وہ مردوں میں سے زندہ ہوا۔ کئی سو لوگوں کی آنکھوں دیکھی گواہی نے اس حقیقت کو دعوے کے ساتھ پیش کیا (1 کرنتھیوں 15:6)۔ اس کےعلاوہ تاریخی قلمبند ثبوت کے ساتھ باندھ دیتی ہے کہ یسوع کون ہے۔ جس طرح پولس رسول نے کہا۔ "ان باتوں میں سے کوئی بات چھپی نہیں کیونکہ یہ ماجرا کہیں کونے میں نہیں ہوا۔ (اعمال 26:26)۔

ہم کو اس بات کا صحیح احساس ہے کہ کچھ ملحد ہوں گے جن کا خدا سے متعلق اپنے خیالات ہوں گے اور ان ثبوتوں سے متعلق پڑھیں گے اور کچھ ہوں گے جنہیں قائل کرنے کے لئے ثبوتوں کی قیمت نہیں ہوگی (زبور 14:1)۔ یہ سب کچھ ایمان کے تحت آ جاتاہے (عبرانیوں 11:6)۔



اردو ہوم پیج میں واپسی



کیا خدا حقیقت ہے؟ میں کس طرح یقین کے ساتھ جانوں کہ خدا حقیقت ہے؟