آسمان میں پہنچنے کے لئے کیا یسوع ہی ایک راستہ ہے؟



سوال: آسمان میں پہنچنے کے لئے کیا یسوع ہی ایک راستہ ہے؟

جواب:
جی ہاں۔ آسمان میں پہنچنے کے لئے یسوع ہی ایک راستہ ہے۔ خصوصی طور سے ایسا بیان ناگوار ہو سکتاہے ان سامعین کے لئے جو موجودہ زمانہ کے ہیں۔ مگر یہ کسی بھی طرح سے سچ نہیں ہے۔ کلام پاک سکھاتا ہے کہ یسوع مسیح کے وسیلہ کے بغیر اور کوئی راستہ نہیں ہے۔ یسوع خود ہی یوحنا 14:6 میں کہتاہے "راہ حق اور زندگی میں ہوں کوئي میرے وسیلہ کے بغیر باپ کے پاس نہیں آسکتا"۔ وہ کئی ایک راہوں میں سے ایک راہ نہیں ہے۔ مگر وہی ایک راہ ہے۔ کوئی اور راستہ نہیں ہے۔ بلا لحاظ کے شہرت، مشکل کام، خاص علم یا شخصی پاکیزگی یہ سب یسوع کے وسیلہ کے بغیر خدا باپ کے پاس نہیں آسکتا۔

کئی ایک اسباب سے صرف یسوع آسمان میں پہنچنے کا راستہ ہے۔ یسوع نجات دہندہ ہونے کے لئے "خداکا چنا ہوا ہے" (1 پطرس 2:4)۔ صرف یسوع ہی ہے جو آسمان سے نیچے اترا اور واپس آسمان کو گیا (یوحنا 3:13)۔ وہی ایک شخص ہے جس نے ایک کامل انسانی زندگی گزاری (عبرانیوں 4:15) وہی ایک گناہوں کا کفارہ ہے (1 یوحنا 2:2؛ عبرانیوں 10:26)۔ صرف وہی ہے جس نے شریعت اور نبوت کو پرا کیا (متی 5:17)۔ صرف وہی شخص ہے جس نے موت پر فتح پائی (عبرانیوں 15-14 :2)۔ صرف وہی ایک ہے جو خدا وار انسان کے بیچ درمیانی ہے (1 تموتھیس 2:5)۔ وہی ایک ہے جس کو آسمانی مقاموں میں بہت سر بلند کیا گیا اور وہ نام بخشا جو سب ناموں سے اعلی ہے (فلپیوں 2:9)۔

یوحنا 14:6 کے علاوہ کئی ایک جگہوں میں یسوع نے خود کو ایک ہی راہ ہونے کی بابت کہی۔ متی 27-21 :7 میں اس نے خود کو ایمان کی ایک زندہ مثال کرکے پیش کیا۔ اس نے کہا اس کا کلام زندگی ہے (یوحنا 6:63)۔ اس نے وعدہ کیا کہ جو اس پر ایمان لاتاہے ہمیشہ کی زندگی اس کی ہے (یوحنا 15-14 :3)۔ وہ بھیڑوں کا دروازہ ہے (یوحنا 10:7)؛ زندگی کی روٹی ہے (یوحنا 6:35)؛ قیامت اور زندگی ہے (یوحنا 11:25)۔ اور کوئی شخص نہیں ہے جو اس طرح خطاب یافتہ ہونے کابراہ راست دعوی کر سکے۔

رسولوں کی منادی نے خداوند یسوع کی موت اور قیامت پر زیادہ زور دیا۔ پطرس نے سخدرین کے سامنے بے خوف ہو کر کہا کہ یسوع ہی آسمان میں پہنچنے کے لئے واحد راستہ ہے۔ "اور کسی دوسرے کے وسیلہ سے نجات نہیں کیونکہ آسمان کے تلے آدمیوں کو کوئی دوسرا نام نہیں بخشا گیا جس کے وسیلہ سے ہم نجات پا سکیں" (اعمال 4:12)۔ انطاکیہ کے ایک عبادت خانہ میں پولس رسول نے منادی کرتے ہوئے کہا کہ "اےبھائیو! تمہیں معلوم ہو کہ اسی کے وسیلہ سے تم کو گناہوں کی معافی کی خبر دی جاتی ہے اور موسی کی شریعت کے باعث جن باتوں سے تم بری نہیں ہو سکتے تھے ان سب سے ہر ایک ایمان لانے والا اس کے باعث بری ہو تاہے" (اعمال 39-38 :13)۔ یوحنا ایک بڑی کلیسیا کو مخاطب کرتے ہوئے مسیح کے نام کی صراحت کرتاہے کہ وہ ہمارے گناہوں کی معافی کی بنیاد ہے "اے بچو! میں تمہیں اس لئے لکھتاہوں کہ اس کے نام سے تمہارے گناہ معاف ہوئے" (1 یوحنا 2:12)۔ کوئی نہیں مگر یسوع گناہوں کی معافی دے سکتا ہے۔

آسمان میں ہمیشہ کی زندگی صرف مسیح یسوع کے وسیلہ سے ہے یسوع نے اس طرح سے دعا کری "اور ہمیشہ کی زندگی یہ ہے کہ وہ تجھ خدائے واحد اور بر حق کو اور یسوع مسیح جسے تو نے بھیجا ہے جانیں" خدا سے نجات کا مفت انعام پانے کے لئے ہم کو صرف اور صرف یسوع کی طرف تاکنا ہے۔ ہم کو یسوع کی صلیبی موت کا بھروسا کرنا ہے۔ "یعنی خدا کی وہ راستبازی جو یسوع مسیح پر ایمان لانے سے سب ایمان لانے والوں کو حاصل ہوتی ہے" (رومیوں 3:22)۔

یسوع کی خدمت گزاری میں ایک زاویہ پر آکر ایک بڑی بھیڑ کے درمیان یسوع نے جب منادی ختم کی تو بھیڑ میں سے بہت سے لوگوں نے پیٹھ دکھا کر اسے چھوڑ کر چلے گئے شاید اس امید سےکہ وہ کسی اور نجات دہندہ کو ڈھونڈ لیں گے تب یسوع میسح نے ان بارہ سے پوچھا "کیا تم بھی مجھے چھوڑ کر چلے جانا چاہتے ہو؟" (یوحنا 6:67)۔ مگر آپ دیکھیں کہ پطرس کاجواب سچ مچ صحیح تھا۔ اس نے کہا "اے خداوند! ہم کس کے پاس جائیں؟ ہمیشہ کی زندگی کی باتیں تو تیرے ہی پاس ہیں۔ اور ہم ایمان لائے اور جان گئے ہیں کہ خدا کا قدوس تو ہی ہے" (یوحنا 69-68 :6)۔ کیاہم سب پطرس کے ایمان کو بانٹ سکتے ہیں کہ صرف یسوع مسیح میں ہی ہمیشہ کی زندگی پائی جاتی ہے۔ آمین!

جو بھی کچھ آپ نے یہاں پڑھا ہے اس کی بنیاد پر کیا آپ نے مسیح کے لئے فیصلہ لیا ہے؟ اگر آپکا جواب ہاں میں ہے تو برائے مہربانی اس جگہ پر کلک کریں جہاں لکھا ہے کہ آج میں نے مسیح کو قبول کر لیا ہے۔



اردو ہوم پیج میں واپسی



آسمان میں پہنچنے کے لئے کیا یسوع ہی ایک راستہ ہے؟