خداوند کی ضیافت ، مسیحیوں کی رفاقت کی کیا اہمیت ہے؟




سوال: خداوند کی ضیافت ، مسیحیوں کی رفاقت کی کیا اہمیت ہے؟

جواب:
خداوند کی ضیافت کا مطالعہ معنوں کی گہرائی جو کہ یہ رکھتا ہے کسی وجہ سے ایک روح کو گرما دینے والا تجربہ ہے ۔ اِس دور میں پُرانی رسم عید فسح اُس کی موت کی شام کو منائی گئی ۔ جس میں یسوع نے ایک شاندار رفاقتی کھانے کی بنیاد رکھی ، جو ہم اُس دن مناتے ہیں ۔ یہ مسیحی عبادت کا ایک نا گزیر حصہ ہے ۔ یہ ہمیں خداوند کی روح اور مُردوں میں سے جی اُٹھنے اور مستقبل میں اُس کی شاندار واپسی پر نظر کرنے کی یاد دلاتی ہے ۔

ععدِفسح یہودی کے مزہبی سال کی سب سے مقدس ضیافت تھی ۔ےہ مصر پر آخری آفت طاعون کی یاددلاتی ہے۔ جب مصر کے پہلوٹھے مر گئے تھے اور اسرائیلی مصر کے خُون کی وجہ سےجو اُنہوں نے اپنی چو کھٹوں پر چھڑک لیا تھا اِکی وجہ سے بچ گئے تھے ۔تب بّرے کو بُھونا گیا اور خمیری روٹی کے ساتھ کھایا گیا ۔خُدا کا حُکم تھا کہآنے والی تمام نسلوں میں ضیافت کو منایا جائے گا یہ کہانی خروج 12باب میں بیان کی گئی ھے۔

آخری عیدِفسح کی رُسومات کے دوران یسُوع نے ایک ٹکڑا لیا اور خُدا کا شُکر ادا کیا ، جیسے ہی اُس نے اِس کو توڑا اور اِسے شاگردوں کو دیا ،اُس نے کہا ،''یہ میرا بد ن ھے جو تمہارے واسطے دیا جاتا ھے ، میری یاد گاری کے لیے یہی کیا کرو اور اِسی طرح کھانے کے بعد پیالہ یہ کہہ کر دیا کہ یہ پیالہ میرے اُس خُون میں نیا عہد ھے جو تمہارے واسطے بہایا جاتا ھے ۔"(لوقا 22: 19 ۔ 21) اُس نے خُدا کی حمدو ثنا کرتے ھوے ضیافت ختم کی (متی26 ۔ 30) اور وہ رات کوباہر زیتون کے پہاڑ کی طرف گئے ۔ یہاں پر یسوع یہودہ سے جیسا کہ پیشن گوئی تھی پکڑوایا گیا ۔اگلے دن اُس کو صلیب دے دی گئ تھی ۔

خُداوند کی ضیافت کے بارے میں اناجیل میں ملتےہیں ۔(متی 26:26۔29)،(مرقس 14:17 ۔ 25۔لوقا 22: 7۔ 22اور یوحناّ13:21۔ 30) پُولوس رسول 1کرنتھیوں11: 23۔ 29میں خُداوند کی ضیافت کےمتعلق لکھتا ھے پو لوس ایک ایسا بیان شامل کرتا ھے جو کہ انا جیل میں نہیں ھے ۔" اس واسطے جو کوئی نا مُناسب طور پر خُداوند کی روٹی کھائے یا اس کے پیالے میں سے پئے وہخُداوند کے بد ن اور خُون کے بارے میں قصُور وار ھو گا ۔ پس آدمی اپنے آپ کو آزما لے اور اسی طرح اس روٹی میں سے کھائے اور اس پیالے میں سے پئے کیونکہ جو کھاتے پیتے وقت خُداوند کے بد ن کو نہ پہچانے وہ اس کھانے پینے سے سزا پائے گا۔" ھم یہ پوچھ سکتے ہیں کہ روٹی اور پیالے میں " ایکنا مناسب طریقہ " سے شرکت کرنے کا کیا مطلب ھے ۔ اس کا مطلب روٹی اور پیالے کےسچے معنوں کو مسترد کرنا اور ھمارے نجات دہندہ کی ھماری نجات کے لیے غیر معمولی قیمت کو بھول جانا ھو سکتا ھے ۔ یا اسکا مطلب ایک مُردہ بننے کی رسم کی اجازت دینا اور حسبِ ضابطہ مذہبی رسومات کو ختم کرنا یا گُناہ کے ساتھ خُداوند کی ضیافت میں شریک ھونا ھو سکتا ھے ۔

پولوس ایک اور بیان دیتا ھے جو کہ انا جیل کے بیانات میں شامل نہیں ھے ۔"کیونکہ جب کبھی تم یہ روٹی کھاتے اوراس پیالے میں سےپیتے ھو تو خُداوند کی موت کا اظہار کرتے ھو "(1کرنتھیوں 11: 26) یہ اس تقریب میں یہ بات ھمارے خُداوند کی دوبارہ آمد تک کے محدود وقت کا اظہار ھے ان مختصر بیانات سے ھم سیکھ سکتے ہیں کہ یسوع نے کس طرح معمولی چیزوں میں سے دو کو اپنے جسم اور خُون کے لیے استعمال کیا اور اپنی موت کی یاد گار بنانے کے لیے سراھا ھے ۔

یہ ایک پتھر پر کُندھا یا تانبے کو پگھلا کر بنی ہوئی یاد گار نہ تھی بلکہ روٹی او سِرکہ کی تھی ۔ اُس نے اعلان کیا کہ روٹی کا اُس کا جسم ہے جو کہ توڑا جائے گا۔ کوئ/ی ٹوٹنے والی ہڈی نہ تھی بلکہ اُس کا جسم بُری طرح زخمی کیا گیا۔ کہ یہ بمُشکل پہچانا جاتا تھا ( زبور 22: 12۔ 17 ) مے اُس کے خون کا حوالہ دیتی ہے اِس الم ناک موت کی طرف اشارہ ہے جس کا جلد ہی تجربہ کرے گا ۔ وہ خدا کا کامل بیٹا نجات دہندہ کے بارے میں پُرانے عہد نامہ کی بےشمار پیشن گوئیوں کو پورا کرنے والا بن گیا ۔ (پئدایش 3 : 15، زبور : 22 ، یسعیاہ 53 ) جب اُس نے کہا " میری یاد میں ایسا ہی کرنا " اُ س نے اس بات کا اشارہ دیا کہ یہایک رسم ھے جو کہآنے والے وقت میں جاری رہنی چاہیے ۔یہ اس بات کا بھی اشارہ دیتی ھے کہ عیدِ فسح جو کہ برّ ے کی قُربانی کا تقاضا کرتی ھے اورخُدا کا برّہ جو کہ دُنیا کے گُناہ اُٹھاتا ھے اس کی آمد ، جو کہ خداوند کی ضیافت میں پوری ہوئی کی طرف اشارہ کر تی ہے ۔ پُرانے عہد نامہ کی جگہ نئے عہد نامہ نے لے لی ۔ جب فسح کا برہ مسیح کو ( 1 کرنتھیوں 5 : 7 ) کو مصلوب کیا گیا ( عبرانیوں 8 : 8 ۔ 13 ) صلیب دئی جانے کے نظام کی مزید ضرورت نہیں ہے ( عبرانیوں 9 : 25 ۔ 28 ) خدا کی ضیافت مسیحی رفاقت اِس بات کی یاد گار ہے کہ مسیح نے ہمارے لیے کیا اور اُس کی قُربانی کے اِس نتیجہ کے طور پر جو ہم حاصل کر تے ہیں اُس کی ایک رسم ہے ۔



واپس اردو زبان کے پہلے صفحے پر



خداوند کی ضیافت ، مسیحیوں کی رفاقت کی کیا اہمیت ہے؟