ميں ايك مسلمان هوں، كيوں ميں ايك مسيحي هونے كے لئے غور كروں؟




سوال: ميں ايك مسلمان هوں، كيوں ميں ايك مسيحي هونے كے لئے غور كروں؟

جواب:
شايد سب سے زياده دلچسپ صورت اسلام اور مسحيت كے تعلق كے درميان هے كه قرآن يسوع كے متعلق كيا كهتا هے۔ قرآن كهتا هے كه الله نے يسوع كو بھيجا اور پاک روح كے ساتھ اسكی مدد كی ﴿2سورۃ87آيت﴾، الله نے يسوع كو بلند كيا ﴿2سورۃ253آيت﴾، يسوع راست اور بے عيب تھا﴿3سورۃ46آيت؛6سورۃ85آيت؛19سورۃ19آيت﴾، يسوع موت سے زنده هوا ﴿19سورۃ33تا34آيت﴾، الله نے يسوع كو حكم ديا كه وه ايک مذهب كی بنياد ركھے﴿42سورۃ13آيت﴾، اور يسوع آسمان پر اٹھايا گيا﴿4سورۃ157تا158آيت﴾۔جس كے نيتجه ميں ايماندار مسلمان اپنے آپ كو يسو ع كی تعلم كے عادی بنائيں اور تابعداری كريں ﴿3سورۃ48تا49آيت؛ 5سورۃ46آیت﴾۔

يسوع كی تعليمات ان كے شاگردوں نے اناجيل ميں بڑی تفصيل سے تحرير كيں ۔ 5سورۃ111آيت بيان كرتی هے كه شاگرد الله كے كهنے پر يسو ع اور اسكے پيغام پر ايمان لائے۔ 61سورۃ6اور14آيت يسوع اور اسكے شاگرددونوں كی تصديق كرتی هے كه وه الله كے مدد گار هيں۔ الله كے مدد گار هوتے هوئے يسوع كے شاگردوں نے درستگی اور سچائی سے يسوع كی تعليمات كو تحرير كيا۔ قرآن مسلمانوں كو هدايت كرتا هے كه وه دونوں قرآن اور اناجيل كو برقرار ركھيں اور ان كی تابعداري كريں﴿5سورۃ44تا48آيت﴾۔ اگر يسوع بے عيب تھا تو جس چيز كی بھی اس نے تعليم دی وه سچ تھی۔ اگر يسوع كے شاگرد الله كے مدد گار تھے ، تو انهوں نے يسوع كی تعليمات كو درستگي سے تحرير كيا هو گا۔

محمد كے ذريعے الله ، قرآن ميں مسلمانوں كو هدايت كرتا هے كه وه اناجيل كا مطالعه كريں۔ الله اس طرح كا حكم كبھی نه ديتا اگر اناجيل میں تحریف ہو چکی تھی ۔ لہذا اناجيل كی نقول محمد كے دور ميں اعتباركے قابل اور درست تھيں۔ اناجيل كی نقول ميں جو محمد كے آنے سے 450سال پهلے كی هيں ۔ يهاں پر اصلی هزاروں هاتھ سے لكھی گئی اناجيل هيں۔ سب سے زياده قديم نقول كا موازنه كرنے سے جو محمد كے دور كی ہیں اور جو محمد كے دور كے بعد كی هيں يه بهت زياده واضع هے كه اناجيل كی نقول بهت زياده هم آهنگ ہیں كه وه يسوع اور اسكی تعليمات كے بارے ميں كيا كهتی هيں۔ يهاں پر ايسا كوئی ثبوت نهيں جس سے ظاهر هو كه اناجيل میں تحریف هوگئی هيں ۔ اس لئے هم يقين سے جان سكتے هيں كه يسوع كی تمام تعليمات 'سچي ہیں اور اسكي تعليمات اناجيل ميں درستگی كے ساتھ تحرير كيں گئی تھيں، اور الله نے اناجيل كو درستگی كے ساتھ محفوظ ركھا۔

وه كونسی چند چيزيں هيں جو اناجيل ميں يسوع كے متعلق تحریر کی گئیں ؟ يوحنا14باب6آيت ميں، يسوع نے اعلان كيا، "راه اور حق اور زندگي ميں هوں۔ كوئی ميرے وسيله كے بغير باپ كے پاس نهيں آتا"۔ يسوع نے تعليم دی كے وه خدا كے پاس جانے كا واحد رسته هے۔ متی 20باب19آيت ميں، يسوع نے كها كه اسے مصلوب كيا جائے گا، قتل كيا جائے گا، اور وه تيسرے دن مردوں ميں سے جی اُٹھے گا۔ اناجيل ميں واضع طور پر موجود هے كه يه هو بہو ايسے هی هوا جيسے يسوع نے پيشن گوئی كی تھی ﴿متی 27اور28باب، مرقس 15اور16باب، لوقا23اور24 باب، يوحنا19تا21 باب﴾۔ يسوع الله كا ايک عظيم پيغمبر هو كر كيوں اپنے آپ كو مارنے كی اجازت دے گا؟ الله اس كی اجازت كيوں دے گا؟ يسوع نے فرمايا كه اس سے زياده محبت كوئي نهيں كرتا كه اپنے دوستوں كے لئے اپني جان دے دے ﴿يوحنا15باب13آيت﴾۔ يوحنا3باب16آيت كهتی هے كه خدا نے هم سے بهت پيار كيا اور يسوع كو بھيجا كه وه همارے لئے قربان هو۔

كيو ں هميں ضرورت هے كه يسوع اپنی جان كی قربانی همارے ليے دے؟ يه اسلام اور مسيحيت كے درميان ايک بڑا فرق هے۔ اسلام تعليم ديتا هے كه الله همارا انصاف اس بنياد پر كرتا هے كه همارے اچھے اعمال كا وزن زياده هے يا برے اعمال كا۔ مسيحيت تعليم ديتی هے كه كوئی ايک بھي لائق نهيں كه اپنے اچھے اعمال كے ذريعے اپنے برے اعمال كے وزن كو كم كرسكے۔ بلكه اگر يه ممكن هوتا كه هم اپنے اچھے اعمال كی وجه سے اپنے برے اعمال كا وزن كم كر پائيں، الله بهت زياده اور مكمل طور پر پاک هے اس لئے وه كسی كو فردوس ميں جانے كی اجازت نهيں ديتا جس كسی نے صرف ايک بھی گناه كيا هو۔ الله ، مكمل اور پاک هے، كسی ايسی چيز كو فردوس ميں آنے كی اجازت نهيں ديگا جو تكميل ميں كم هو۔ يه هميں ايک ايسے رسته كی طرف لے جاتی هے جو هميشه كے لئے دوزخ هے۔ الله كی پاكيزگی گنا ه كے لئے ابدی عدالت كا مطالبه كرتی هے۔ اس لئے يسوع نے همارے لئے قربانی دی۔

ہمیں کیوں یسوع کی ضرورت محسوس ہوئی کہ وہ ہمارے لیے اپنی جان دے؟ یہی وہ بنیادی فرق ہے اسلام اور مسیحیت میں۔ اسلام تعلیم دیتا ہے کہ اﷲ ہمارا انصاف کریگا ہمارےاچھے اور بُرے اعمال کو تولنے کے بعد۔ اور مسیحت تعلیم دیتی ہے کہ کوئی بھی اس قابل نہیں ہے کہ وہ اپنے نیک اعمال کے باعث جنت کو حاصل کر سکے ۔ اور اگر یہ ممکن ہوتا کہ ہمارے اچھے کام بُرے کاموں کی بانسبت بہتر ہوتے۔ تو اﷲ مکمل طور پر پاک اور راست ہونے کے باعث کسی کو بھی اجازت نہ دیتا جنت میں داخل ہونے کی جس کسی نے ایک بھی گناہ کیا ہو۔تو پھر وہ ہمیں ایسے سیدھے راستے پر چھوڑ دیتا جو کہ سیدھا ابدی جہنم کو جاتا ہے۔ کیونکہ اﷲ کو پاکیزگی یہ تقاضہ کرتی ہے کہ وہ گناہ کا راستی سے انصاف کرے۔ اور یہی وہ وجہ ہے جس کے لیے یسوع ہمارے لیے مصلوب ہوا۔

جيسے قرآن تعليم ديتا هے ، يسوع بے عيب تھا۔ كيسے كوئی آدمی اپنی پوری زندگی ايک بھی گناه كئے بغير گزار سكتا هے؟ يه ناممكن هے۔تو پھر يسو ع نے اسے كيسے پورا كيا؟ يسوع ايک انسان سے بڑھ كر تھا۔ يسوع نے خود دعویٰ كيا كه وه خدا كے ساتھ ايک تھا ﴿يوحنا10باب30آيت﴾۔ يسو ع نے خود اعلان كيا كه وه توريت كا خدا هے ﴿يوحنا8باب58آيت﴾۔ اناجيل واضع طور پر تعليم ديتی هيں كه يسوع انسانی جامه ميں خدا تھا ﴿يوحنا1باب1اور14آيت﴾۔ خدا جانتا تھا كه هم سب نے گناه كيا اور اس لئے اسكی بادشاهی ميں داخل نهيں هوسكتے تھے۔ خدا جانتا تھا كه هم صرف ايک هی رسته سے معافی حاصل كرسكتے تھے اور وہ یہ تھا کہ ہمارے گناه كا قرض ادا كياجائے ۔ خدا جانتا تھا كه وهی يه لا متُنائی قيمت ادا كرسكتا تھا۔ خدا انسان بنا اور يسوع مسيح میں بے عيب زندگی گزاری۔ ﴿3سورۃ46آيت؛6سورۃ85آيت؛19سورۃ19آيت﴾، كامل پيغام كی تعليم دی، اور همارے لئے مُوا، اور همارے گناهوںكا جرمانه ادا كيا۔ خدا نے يه اسلئے كيا كيونكه وه هم سے پيار كرتا هے، كيونكه وه چاهتا هے كه هم آسمان پر اس كے ساتھ هميشه كی زندگی گزاريں۔

پس اس كا آپ كے لئے كيا مطلب هے؟ يسوع همارے گناهوں كی كامل قربانی تھی۔ خدا هم سب کے لیے معافي اور نجات كی پيشكش كرتا هے اگر هم اسكے تحفے كو سادگی سے اپنے لئے قبول كرتے هيں﴿يوحنا1باب12آيت﴾، يسوع پر نجات دهندهو نے كا يقين كريں جس نے اپنے دوستوں كے لئے اپنی جان دی۔ اگر هم اپنا ايمان يسوع پر ركھتے هيں كه وہ همارا نجات دهنده هے، تو آپ آسمان پر ابدی زندگی كی غير مشروط ضمانت ركھيں گے۔ خدا وند آپ كے گناهوں كو معاف كريگا، آپكی روح كو دھو ڈالے گا، آپكی روح كو نيا كرديگا، آپ كو اس دنيا ميں كثرت سے زندگی ديگا، اور ابدی زندگی آنے والے جهان ميں۔ هم كيسے اس بيش قيمت تحفے كو رد كر سكتے هيں؟ هم كيسے خدا سے منه موڑ سكتے هيں جس نے هم سے اتنا پيار كيا كه اپنے آپ كو قربان كرديا؟

اگر آپ كو اپنے ايمان پر بھروسه نهيں كه آپكا ايمان كيا، هم آپ كو دعوت ديتے هيں ذيل ميں دی گئی دعا خدا سے كهنے كے لئے؛ "خداوند ميري مدد كركه سچ كيا هے۔ ميری مدد كر تاكه ميں جان سكوں كے كيا غلط هے۔ ميری مدد كر تاكه ميں جان سكوں كے نجات كا درست رسته كيا هے"۔ خدا هميشه ايسی دعا كو پسند كرتا هے۔

اگر آپ يسوع كو اپنا نجات دهنده قبول كرنا چاهتے هيں، سادگی سے خدا سے گفتگو كريں، بول كر يا خاموشی سے، اور اسے بتائيں كه آپ نے نجات کا تحفه يسوع كے ذريعے حاصل كيا هے۔ اگر آپ دعا كرنا چاهتے هيں، مثال کے طور پر: "خداوند، آپ كا شكريه كه آپ مجھ سے پيار كرتے هيں۔ شكريه كه آپ نے اپنے آپ كو ميرے لئے قربان كيا۔ شكريه كه آپ نے ميری معافی اور نجات كے لئے اپنے آپ كو پيش كيا۔ ميں نجات كو تحفه يسوع كے ذريعے حاصل كرتا هوں۔ ميں يسوع پر اپنا نجات دهنده هونے كا يقين ركھتا هوں۔ خدا وند ميں آپ سے پيار كرتا هوں اور اپنے آپ كو آپ كے حوالے كرتا هوں۔ آمين

اگر ایسا ہے، تو برائے مہربانی دبائیں "آج میں نے مسیح کو قبول کرلیا"نیچے دئیے گئے بٹن کو



واپس اردو زبان کے پہلے صفحے پر



ميں ايك مسلمان هوں، كيوں ميں ايك مسيحي هونے كے لئے غور كروں؟