روُح القدس کا بپتسمہ کیا ؟




سوال: روُح القدس کا بپتسمہ کیا ؟

جواب:
رُوح القدس کے بپتسمہ کی تعریف یوں کی جاسکتی ہے کہ ایسا کام جہاں نجات کے موقع پر ایماندار مسیح کے ساتھ ملاپ ہیں اور مسیح کے جسم میں دوسرے ایمانداروں کے ساتھ ملاپ میں خُدا کی رُوح موجود ہوتی ہے۔ پہلا کرنتھیوں 12 باب اُسکی 12 اور 13 آیت روح القدس کے بپتسمہ کے بارے میں بائیبل میں مرکزی پیرا ہے ۔ "کیونکہ ہم نے سب نے خواہ یہودی ہوں خواہ یونانی ، خواہ آزاد۔ ایک ہی رُوح کے وسیلہ سے ایک بدن ہونے کے لیے بپتسمہ لیا اور ہم سب کو ایک ہی رُوح پلایا گیا"۔ (1 کرنتھیوں 13-12) جبکہ رومیوں 6باب اُسکی ۱ سے 4 آیت تک خاص طور خُدا کی رُوح کا ذکر نہیں کرتیں ہیں ۔ یہ پہلا کرنتھیوں کے پیرا سے ملتی جُلتی زبان میں خُدا کے سامنے ایماندار کی حالت کو بیان کرتیں ہیں " پس ہم کیا کہیں ؟ کیا گناہ کرتے رہیں تاکہ فضل زیادہ ہو؟ ہرگز نہیں۔ ہم جو گُنا ہ کے اعتبار سے مرگئے کیونکر آءنید کو زندگی گرزاریں؟ کیا تم نہیں جانتے کہ ہم جنتنوں نے مسیح یوسع میں شامل ہونے کا بپتسمہ لیا تو اُسکی موت میں شامل ہونے کا بپتسمہ لیا۔ پس موت میں شامل ہونے کے بپتسمہ کے وسیلہ سے ہم اُس کے ساتھ دفن ہوئے تاکہ جس طرح مسیح باپ کے جلال کے وسیلہ سے مُردوں میں سے جلایا گیا اُسی طرح ہم بھی نئں زندگی میں چلیں "۔

یہ بیان کردہ حقائق روح کے بپتسمہ کے لیے ہماری سمجھ بوجھ کو استحکام دینے کے لیے مدد کے لیے بہت ضروری ہیں ۔ پہلا کرنتھیوں 12 باب اُسکی 13 آیت صاف صاف بیان کرتی ہے کہ سب نے بپتسمہ لیا، بالکل اَس طراح سب کو روح پلایا گیا (روح میں رہتے ہوئے) ۔ دوسرا کلام میں کہیں بھی اَس کے ساتھ بپتسمہ لینے کا نہیں بتایا گیا یا رُوح سے یا روُح القدس سے بپتسمہ لینے کے کسی بھی معنی میں ایمانداروں کو نہیں بتایا گیا ہے ۔ یہ اشارہ کرتا ہے کہ تمام ایماانداروں نے اِ س کا تجربہ کیا ۔ تیسرا افیسوں 4 باب اُسکی 5 آیت روُح کے بپتسمہ کا حوالہ دیتی ہے ۔ اگر معاملہ یہ ہے تو رُوح کا بپتسمہ ہر ایماندار کے لیے حقیقی ہے جیسے کہ "ایک ایمان " اور "ایک باپ" ہیں۔

نتیجہ کے طور پر روُح القدس دو چیزیں کرتا ہے ۔1۔ یہ ہمیں مسیح کے بدن سے جوڑتا ہے ۔ 2۔ یہ مسیح کے ساتھ ہمارے مصلوب ہونے کو حقیقیت بناتا ہے ۔ اُس کے جسم میں سے ہونے کا مطلب ہے کہ ہم نئ زندگی میں اُس کے ساتھ اُٹھائے جاتے ہیں (رومیوں6باب اُسکی 4 آیت ) پھر ہمیں اِس جسم کو باضابطہ طور پر چلانے کے لیے اپنے روحانی تحاءف کو عمل میں لانا چاہیے جیسا کہ1 کرنتھیوں 12 باب اُسکی 13 آیت کے مضمون میں بیان کیا گیا ہے ۔ ایک رُوح میں بپتسمہ لینے کا عمل کلیسیاء کو متحد کرنے کی بنیاد کے طور پر کام کرتا ہے جیسا کہ افسیوں4 باب اُسکی 5 آیت میں ہے ۔ رُوح کے بپتسمہ کے وسیلہ سے مسیح کے ساتھ اُسکی موت، دفن ہونے اور جی اُٹھنے میں شامل ہونا گناہ سے کی قوت سے اور نئ زندگی میں ہمارے چلنے کے لیے بنیاد قائم کرتا ہے ۔ ، )2:12کُلسیوں (رومیوں10-6:1



واپس اردو زبان کے پہلے صفحے پر



روُح القدس کا بپتسمہ کیا ؟