کیا خدا نے بُرائی کو خلق کیا؟




سوال: کیا خدا نے بُرائی کو خلق کیا؟

جواب:
سب سے پہلے ایسا دکھائی دیا کہ اگر خدا نے سب چیزوں کو پیدا کیا ، پھر بُرائی کو بھی خداوند سے پیدا کیا جانا تھا ۔ بہر حال ، بُرائی چٹان یا بجلی کی مانند ایک " چیز " نہیں ہے ۔ آپ بُرائی کے برتن ( جار) کو نہیں رکھ سکتے۔ بُرائی اپنے آپ میں وجود نہیں رکھتی ہے ، یہ درحقیقت اچھائی کی غیر حاضر ی ہے ۔ مثل کے طور پر ، سوراخ حقیقی ہیں لیکن یہ صرف کسی اور چیز میں وجود رکھتے ہیں ۔ ہم نجاست کی غیر حاضری میں چھید رکھتے ہیں ، لیکن اِسے نجاست سے الگ نہیں کیا جا سکتا ۔ اِس طرح جب یسوع نے تخلیق کی ، یہ سچ ہے کہ سب کچھ جو اُس نے خلق کیا اچھا تھا ۔ اصل حقیقت رکھنے کے معاملہ میں ، خدا کو اچھائی کے علاوہ انتخاب کرنےکے لیے کسی چیز کے ہونے کی اجازت دینا تھی ۔ اِس طرح ، خدا نے اِن آزاد فرشتوں اور انسانوں کو اچھائی یا اچھائی کو رد کرنے (بُرائی) کا انتخاب کرنے کی اجازت دی ۔ جب دو اچھی چیزوں کے درمیان بُرا تعلق وجود رکھتا ہے ہم اِسے بُرائی کہتے ہیں ، لیکن یہ ایک " چیز"" نہیں بنتی ہے ، جو خدا وند سے اِسے تخلیق کرنے کا تقاضا کر تی ہے ۔

شاید مزید تشریح مدد کرے گی ۔ اگر ایک شخص سے پوچھا جاتا ہے، " کیا ٹھنڈ وجود رکھتی ہے ؟" جواب کچھ اِس طرح ہو گا " جی ہاں" ۔ بہر حال ، یہ غلط ہے ۔ ٹھنڈ وجود نہیں رکھتی ۔ ٹھنڈ (سردی) گرمائش کی غیر حاضری ہے ۔ اِسی طرح ، اندھیرا وجود نہیں رکھتا ، یہ روشنی کی غیر حاضری ہے ۔ بُرائی اچھائی کی غیر حاضری ہے ، یا بُرائی خدا کی غیر حاضری ہے ۔ خدا کو اِسے تخلیق نہیں کرنا تھا ، بلکہ اچھائی کی غیر حاضری میں صرف اِس کی اجازت دینا تھی ۔

خدا نے بُرائی کو خلق نہیں کیا ، لیکن وہ بُرائی کی اجازت دیتا ہے ۔ اگر خدا نے بُرائی کے امکان کے لیے اجازت نہ دی ہوتی ، دونوں بنی نوع انسان اور فرشتے احسان کے بغیر ، انتخاب کے بغیر خداوند کی خدمت کر رہے ہوتے ۔ وہ "مشینی آدمی" روبورٹ) نہیں چاہتا تھا ، جو سادہ طرح وہی کرتے جو وہ اُن سے اُن کی " پروگرامنگ" کی وجہ سے کروانا چاہتا ۔ خدا نے بُرائی کے امکان کی اجازت دی تاکہ ہم خالص طور پر آزاد مرضی رکھتے اور اِس کا انتخاب کر تے کہ آیا کہ ہم اُس کی خدمت کرنا چاہتے ہیں یا نہیں ۔

فانی انسانی مخلوقات کے طور پر ، ہم کبھی غیر فانی خداوند کو مکمل طور پر سمجھ نہیں سکتے ( رومیوں11 : 33 ۔ 34 )۔ بعض اوقات ہم سوچتے ہیں کہ ہم سمجھتے ہیں کہ کیوں خداوند کوئی چیز کر رہا ہے ، بعد ازاں صرف یہ پانے کے لیے کہ یہ اُس مقصد سے بالکل مختلف تھا جو ہم نے درحقیقت سوچا تھا ۔ خداوند چیزوں پر پاک ، اور ابدی پہلو کے طور پر غور کرتا ہے ۔ ہم چیزوں پر گناہ آلود ، زمینی، اور عارضی پہلو کے طور پر غور کر تے ہیں ۔ کیوں خدا نے انسان کو یہ جانتے ہوئے زمین پر رکھا کہ آدم اور حوا گناہ کریں گے اور اِس طرح تمام انسانیت پر بُرائی، موت اور اذیت کو لائیں گے؟ کیوں اُس نے ہمیں محض خلق نہ کیا اور ہمیں آسمان پر ہی نہ چھوڑا جہاں ہم کامل ہوتے اور بغیر اذیت کے ہوتے ؟ اِ ن سوالات کو مناسب طور پر ہمیشگی کی اِس سمت پر جواب نہیں دیا جا سکتا ۔ کو کچھ ہم جان سکتے ہیں یہ کہ جو کچھ خدا کرتا ہے ، یہ پاک اور کامل اور حتمی طور پر اُس کے جلال کے لیے ہوتا ہے ۔ خدا نے ہمیں اِس انتخاب کے لیے کہ آیا کہ ہم اُس کی عبادت کر تے ہیں یا نہیں گناہ کے امکان کے لیے اجازت دیتا ہے ۔ خدا نے بُرائی کو پیدا نہیں کیا ، لیکن اُس نے اِس کی اجازت دی ۔ اگر وہ بُرائی کی اجازت نہ دیتا ، ہم بغیر کسے احسان کے اُس کی عبادت کر رہے ہوتے ، نہ کہ اپنی ذاتی آزاد مرضی کے انتخاب سے



واپس اردو زبان کے پہلے صفحے پر



کیا خدا نے بُرائی کو خلق کیا؟