كيا خدا موجودهے؟كيا خدا كے وجود كے لئے كوئي ثبوت هيں؟




سوال: كيا خدا موجودهے؟كيا خدا كے وجود كے لئے كوئي ثبوت هيں؟

جواب:
کیا خدا موجودهے؟ میں نے اسے بهت دلچسپ پایا کیونکه اس بحث کو بهت زیاده توجه دی جاتی هے۔ تازه ترین تحقیق بتاتی هے آج کی دنیا که 90فی صدلوگ خدا کے وجود پر یقین رکھتے هیں یا کوئی انوکھی طاقت سمجھتے هیں۔ اب بھی، یه ذمه داری ان لوگوں پر آتی هے جو هرطرح سے خد اکی موجودگی پر یقین رکھتے هیں اور هرممکن طریقے سے ثابت کرتے هیں که خدا واقعی موجود هے۔ میرے لئے، میرے خیال میں اس کے علاوه اور راه بھی هونی چاهیے۔

اس لئے، خدا کے وجود کو ثابت نهیں کیا جاسکتا اور نه هی غلط ثابت کیا جاسکتا هے۔ کلامِ مقدس کهتا هے که هم ضرور ایمان کے ذریعے اس حقیقت کو قبول کریں که خدا موجود هے، "اور بغیر ایمان کے اس کو پسند آنا ناممکن هے ۔ اس لئے کے خدا کے پاس آنے والے کو ایمان لانا چاهیے که وه موجود هے اور اپنے طالبوں کو بدله دیتا هے" ﴿عبرانیوں11باب6آیت﴾۔ اگر خدا خواهش کرتا ، که اسے نظر آنا چاهیے اور تمام دنیا پرثابت کرے که وه موجود هے ۔ لیکن اگر وه ایسا کرتا، تو پھر ایمان کی ضرورت نه هوتی۔ "یسوع نے اس سے کها، تُو تو مجھے دیکھ کر ایمان لایا هے ۔ مبارک وه هیں جو بغیر دیکھے ایمان لائے"﴿یوحنا20باب29آیت﴾۔

اس کا یه مطلب نهیں، اس لئے، که خدا کے وجود کا کوئی ثبوت نهیں۔ کلامِ مقدس اعلان کرتا هے، "آسمان خدا کا جلال ظاهر کرتا هے اور فضا اس کی دستکاری دکھاتی هے۔ دن سے دن بات کرتا اور رات کو رات حکمت سکھاتی هے۔ نه بولنا هے نه کلام۔ نه ان کی آواز سنائی دیتی هے۔ اس کا سُر ساری زمین پر اور اس کا کلام دنیا کی انتها تک پهنچا هے۔ اس نے آفتا ب کے لئے ان میں خیمه لگایا هے"﴿19زبور1تا4آیت﴾۔ ستاروں کو دیکھنے سے ، کائنات کی وسعت کا پته چلتا هے، قدرت کے عجوبوں پر غور کرنے سے، غروبِ آفتاب کی خوبصورتی کو دیکھنے سے یه تمام چیزیں اپنے خالق خدا کی طرف اشاره کرتی هیں۔ اگر یه ناکافی تھیں، تو ایک اور ثبوت سے هم خدا کو اپنے دلوں میں محسوس کرسکتے هیں۔ واعظ3باب11آیت همیں بتاتی هے، ..."اس نے هر ایک چیز کو اس کے وقت میں خوب بنایااور اس نے ابدیت کو بھی ان کے دل میں جاگزین کیاهے اس لئے که انسان اس کا م کو جو خدا شروع سے آخر تک کرتا هے دریافت نهیں کرسکتا"۔ هم انسانوں کے اندر کچھ هے جسے هم جانتے هیں که اس زندگی کے بعد کچھ هے اور کوئی هے جو اس دنیا سے پرے هے۔ هم عقلی یا شعوری طور پر اس کو جاننے سے انکار کرسکتے هیں، مگر خدا کی موجودگی هم میں هے اور همارے ذریعے وه یهاں موجود هے۔ ان سب کے باوجود ، کلامِ مقدس همیں خبردار کرتا هے که کچھ ابھی تک خدا کی موجودگی سے انکار کرتے هیں، "احمق نے اپنے دل میں کها هے که کوئی خدا نهیں"﴿14زبور1آیت﴾۔ شروع سے لیکر اب تک 98 فی صدسے زائد لوگ ، تمام ثقافتوں سے، تمام تهذیبوں سے، تمام برے اعظموں سے خدا کے کسی طرح کے وجود پر یقین رکھتے هیں کوئی هے ﴿یا کوئی ایک﴾جو اس یقین کی وجه هے۔

مزید کلامِ مقدس کے حواله سے خدا کے وجود کے بارے میں دلائل دیتے هوئے، یهاں منطقی دلائل هیں۔ پهلا، موجود هونے کے نظریے کی دلیل۔موجو د هونے کے نظریے کی سب سے مشهور دلیل بنیادی طور پر خدا کے تصور کے لئے استعمال هوتی هے جو ثابت کرتی هے که خدا موجود هے۔ انسانی نقطه نگاه سے خدا کی تعریف ایسے هے، "وه جس سے عظیم کا کبھی تصور نه کیا گیا هو"۔ یه ثابت کرتا هے که اس کی موجودگی سب سے عظیم هے جو موجود نهیں هے، اس لئے کوئی قابلِ فهم مافوق الفطرت وجود هے۔ اگر خدا موجود نهیں هے تو خدا عظیم اور قابلِ فهم نه هوگا لیکن یه خدا کی حقیقی تعریف کو کریگا۔ دوسرا، کائنات کے تغیرات کے نظریے کی دلیل۔ یه کائنات کے تغیرات کے نظریے کی دلیل جو کائنات کے حیران کن خاکے کو ظاهر کرتی هے، یهاں ضرور کوئی ابدی اور الہیٰ قوت اِسے بنانے والی هے۔ مثال کے طور پر، اگر زمین سورج سے کچھ سومیل نزدیک یا مزید دور هوتی ، تو یه زندگی کر پرورش کرنے کے قابل نه هوتی جیسے ابھی کر رهی هے۔ اگر هماری فضا میں جو عناصر هیں وه صرف کچھ حد تک مختلف هوتے تو زمین پر رهنے والی هر چیز مر جاتی۔ ایک اکیلے پروٹین میلیکول کے اچانک بننے کا عمل ایسے هے ایک خلیه لاکھو ں پروٹین کے میلیکولوں پر مشتمل هوتا هے۔

ایک تیسری دلیل جسے خدا کے وجود کے لئے کهتے هیں کائنات کے علم کے نظریے کی دلیل۔ هر اثر کے پیچھے ایک وجه هوتی هے۔ اس کائنات میں اور هر چیز میں ایک اثر هے۔ یهاں پر ضرور کچھ هوا هے جس کی وجه سے هر چیز وجود میں آئی هے۔ آخر کار ، یهاں پر کوئی چیز "بے وجود"هے جس کی وجه سے هر چیز وجود میں آئی هے۔ یه "بے وجود"چیز خدا هے۔ چوتھی دلیل جانی جاتی هے اخلاقی نظریے کی دلیل۔ هر تهذیب ابتدا ہی سے کچھ قوانین رکھتی تھی۔ هر کوئی اچھے اور برے کی تمیز رکھتا هے۔ خون کرنا، دغا دینا، چوری کرنا اور بدفعلی تقریباً عالم گیر طور پر رد کئے جاتے هیں۔ یه اچھے اور برے کی تمیز کهاں سے آئی کیا یه خدا سے نهیں آئی؟

اس کے باوجود ، کلامِ مقدس همیں بتاتا هے که لوگ خدا کے واضع اور ناقابلِ انکار علم کو رد کریں گے اور جھوٹ کا یقین کریں گے۔ رومیوں1باب25آیت اعلان کرتی هے، "اس لئے که انهوں نے خدا کی سچائی کو بدل کر جھوٹ بنا ڈالا اور مخلوقات کی زیاده پرستش اور عبادت کی به نسبت اس خالق کے جو ابد تک محمود هے۔ آمین"۔

کلامِ مقدس اعلان کرتا هے که لوگ بغیر عذرکے خدا پر یقین نهیں رکھتے، " کیونکه اس کے اندیکھی صفتیں یعنی اسکی ازلی قدرت اور الوهیت دنیا کی پیدائش کے وقت سے بنائی هوئی چیزوں کے ذریعے سے معلوم هو کر صاف نظر آتی هے یهاں تک که ان کو کچھ عذر باقی نهیں"﴿رومیوں1باب20آیت﴾۔

لوگ خدا پر نه یقین کرنے کا دعویٰ کرتے هیں کیونکه یه "تجرباتی نهیں"یا "کیونکه اس کا ثبوت نهیں"۔ اصل وجه یه هے که لوگ ایک دفعه مانتے هیں که یهاں ایک خدا هے، وه یه بھی ضرور محسوس کرتے هیں که خدا ان کا ذمه دار هے اور انکو خدا سے معافی کی ضرورت هے ﴿رومیوں3باب23آیت؛6باب23آیت﴾۔ اگر خدا موجود هوتا، تو هم اس کے سامنے اپنے اعمال کے جواب ده هوتے۔ اگر خدا موجود نهیں، تو پھر هم جو کچھ بھی چاهیں کر سکتے هیں کسی پریشانی کے بغیر کے خدا کونسا همار ا حساب کرنے والا هے۔ میں یقین رکھتا هوں که همارے معاشرے که بهت سے لوگ نظریه ارتقائی کو سختی مانتے هیں لوگوں کو خالق خدا کے متبادل ایمان رکھنے کے لئے کچھ اور دیتے هیں۔ خدا موجود هے اور آخر کار هر کوئی جانتاهے که وه موجود هے۔ کچھ لوگ جارحانه طور پر اس کے وجود کی حقیقی سچائی کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کرتے هیں جو اس کے وجود کی سچی دلیل هے۔

میں کیسے جانوں کے خدا موجود ہے ؟ بطور مسیحی ہم یہ ایمان رکھتے اور جانتے ہیں کہ خدا موجود ہے اور ہم روزانه اس سے گفتگو کرتے ہیں ۔ہم اسکی بلند آواز کو سن نہیں سکتے ، لیکن بطور مسیحی ہم اس کی موجودگی کو محسوس کرتے ہیں ،ہم اس کی راهنمائی کو محسوس کر تے ہیں، ہم اسکے پیار کو جانتے ہیں ، ہم اسکے فضل کی خواہشمند ہیں۔ ہماری زندگی میں ایسی بهت سی چیزیں رونما هوتی هیں جن کا خدا کے علاوه کوئی دوسرا بیان ممکن نهیں۔ خدا نے معجزانه طور پر ہمیں نجات دی هے اورہماری زندگی تبدیل کی هے جو میں اپنے طور پر نهیں کرسکتا تھا لیکن یہ سب اس کے وجود کی موجودگی سے ممکن ہو سکا۔ ان میں سے کوئی بھی دلیل ایسی نهیں جو انهیں قائل کرے جو کوئی اسے جاننے سے انکار کرے تو صاف ظاهر هے۔ آخر میں ، خدا کے وجود کو ایمان کے ذریعے تسلیم کیا جاتا هے ﴿عبرانیوں11باب6آیت﴾۔ خدا پر یقین کرنا ایسا نهیں جیسے اندھیرے میں تیر چلانا، یه ایک محفوظ قد م هے ایک اچھے روشن کمرے کی طرف جهاں پر90فی صدلوگ پهلے هی کھڑے هیں۔



واپس اردو زبان کے پہلے صفحے پر



كيا خدا موجودهے؟كيا خدا كے وجود كے لئے كوئي ثبوت هيں؟