زندگی کےکیا معنی ہیں؟



سوال: زندگی کےکیا معنی ہیں؟

جواب:
زندگی کے کیا معنی ہیں کس طرح مقصد اور اس کی تکمیل اور آسودگی زندگی میں دیکھی جا سکتی ہے کس طرح قائم رہنے والی اہمیت کوحاصل کیا جا سکتا ہے بہت سے لوگوں نےکبھی رک کر ان اہم سوالات پر غور نہیں کیا ہے۔ وہ کئی سالوں بعد پیچھے مڑ کر دیکھتے اور تعجب کرتے ہیں کہ کیوں زندگی سے ان کا رشتہ ٹوٹ چکا ہے یا الگ ہو کر رہ گیا ہے اور کیوں وہ خالی پن کو محسو س کرتے ہیں۔ حالانکہ وہ جو کچھ پورا کرناچاہتے تھے انہوں نے اسے پورا کر لیا ہے۔ ایک کھلاڑی جواپنے کھیل کے نشانہ پر پہنچ چکا تھااس سے کھیل کے شروع میں پوچھاگیا کہ وہ اپنی زندگی میں کیا خواہش رکھتا تھا۔ اس نے جواب دیا کہ میری خواہش یہ تھی کاش کہ کوئی مجھ سے یہ کہتا کہ "جب تم اونچائی پر پہنچو تو دیکھو گےکہ وہاں پرتمہارے لغے کچھ نہیں رکھا ہے"۔ کئی ایک نشانے ایسے ہوتے ہیں جو برسوں سے ریاض کرنے کے بعد بھی خالی نظر آتے اوران کا تعاقب اور تلاش بیکار ثابت ہوتے ہیں۔

ہماری انسانی تہذیب میں لوگ بہت سی چیزوں کے پیچھے عبث ہی بھاگتے ہیں یہ سوچ کر کہ ان میں وہ ایک مقصد کوحاصل کریں گے۔ اس کھوج میں کاروباری کامیابی، اچھے اور خوبصورت رشتے، جنسی تعلقات، تفریح بازی کھیل تماشا، جانوں کا سودا یہاں تک کہ دوسروں کی بھلائی کرنا بھی شامل ہے۔ مگر انہیں لوگوں نے علانیہ طور سے یہ گواہی دی ہے کہ دولت، رشتے، مسرت اور عیش و عشرت کو حاصل کرنے کے باوجود بھی اپنے باطن کی گہرائی میں ایک کھوکھلے پن کو محسوس کیا ہے۔ ایک خالی پن کااحساس کیا ہے اور ان کی نظر میں ایسی کوئی بدل کی چیز نہیں ہے جواس کی بھر پائی کر سکے۔

کلام پاک میں واعظ کی کتاب کالکھنے والا اس احساس کا بیان اس طرح کرتا ہے کہ "باطل ہی باطل واعظ کہتا ہےکہ ہر ایک چیز باطل ہے (واعظ 1:2)۔ سلیمان بادشاہ جو واعظ کی کتاب کا لکھنے والا تھا اس کے پاس بے پناہ دولت تھی۔ شروع زمانہ سے لے کر آج تک اس کے جیسا دانشمند نہ کبھی ہوا تھا اور نہ ہوگا۔ اس کے پاس سینکڑوں عورتیں، باغ باغیچے اس کی عظیم سلطنت میں عیش و عشرت کے ذرائع تھے۔ ہر طرح کے لذیذ کھانے اور شراب اس کے کھانے کی میز کی زینت ہوا کرتی تھی۔ اور اس کے پاس ہر طرح کی موسیقی، ناچ گانے کے انتظامات تھے۔اس نے اپنے بیان کے ایک حصہ میں اس طرح کہاکہ میں نے اپنا دل لگایا کہ جو کچھ آسمان کے نیچے کیا جاتاہے اس سب کی تفتیش و تحقیق کروں۔ خدا نے بنی آدم کو یہ سخت دکھ دیا ہے کہ وہ مشقت میں مبتلا رہے۔ میں نے سب کاموں کو جو دنیا میں کئے جاتے ہیں نظر کی اور دیکھو یہ سب کچھ بطلان اور ہوا کی چران ہے۔ (واعظ 14-13 :1)۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ سب کچھ اس طرح باطل اور خالی کیوں ہے؟ اس لئے کہ خدا نے ہم کو اس بطور بنایا ہےکہ جو تجربہ ہم دنیا میں ابھی کرتے اور کر سکتے ہیں اس سے بڑھ کر تجربہ آنے والے زمانہ میں کر سکیں۔ سلیمان نے خدا کی طرف اشارہ کر کے کہا۔ کہ "اس نے ہر ایک چیزکو اس کے وقت میں خوب بنایا اور اس نے ابدیت کو بھی بنی آدم کے دل میں جاگزین کیا ہے۔۔۔۔ (واعظ 3:11)۔

ہم اپنے دلوں میں با خبر ہیں کہ جویہاں اور موجودہ وقت میں ہمارے لئے موجود ہے وہ سب کچھ آسمانی دنیا میں موجود نہیں ہوگا۔ پیدائش کی کتاب میں جو پاک کلام کی پہلی کتاب ہے ہم اس میں پاتے ہیں کہ خدا نے حضرت انسان کو اپنی صورت پر یعنی اپنی شبیہ پر بنایا (پیدائش 1:26)۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ ہم خداکی صورت سے زیادہ (کسی اور چیز سے زیادہ زندہ شکل میں) پائے جاتے ہیں۔ ہم یہ بھی پاتے ہیں کہ انسان کے گناہ میں گرنے سے پہلے ہی گناہ کی لعنت زمین پر آ چکی تھی۔ (مندرجہ ذیل باتیں سچ ہیں: 1 ) خدا نے انسان کو معاشرت پسند مخلوق بنایا (پیدائش 25-18 :2)؛ 2) خدا نے انسان کو کام دیا۔ یعنی کہ اسے ذمہ داری سونپی (پیدائش 2:15؛ 3) خدا نے انسان کے ساتھ رفاقت رکھنے کی سوچی (پیدائش 3:8؛ 4) خدا نے انسان کو زمین پر اختیار بخشا (پیدائش 1:26)۔ یہ باتیں کس کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ یعنی اس کا کیا مراد ہے۔ ان باتوں سے خداکاارادہ یہ تھاکہ یہ چیزیں ہماری زندگیوں میں شامل کی جائیں (خاص طور سے خداکے ساتھ رفاقت) جو کہ انسان کے گناہ میں گرنے کے ذریعہ مخالفت طور پر اثر پذیر ہوا اور جس کے انجام بطور زمین پر لعنت چھا گئی (پیدائش 3 باب)۔

کلام پاک کی آخری کتاب مکافشہ میں خدا ظاہرکرتاہےکہ وہ موجودہ زمین اور آسمان کو برباد کر دے گا۔ اور ایک نیا آسمان اور ایک نئی زمین پیدا کر کے انہیں ایک ابدی حالت میں لے کر آئے گا۔ اس وقت وہ چھٹکارہ پائے ہوئے لوگوں کے ساتھ اپنی پوری رفاقت بحال کرے گاجبکہ غیر نجات یافتہ لوگوں کا مقدمہ ہوگا اور انہیں آگ کی جھیل میں ڈالے جائیں گے (مکاشفہ 15-11 :20)۔ اسی کے ساتھ ہی گناہ کی لعنت کا خاتمہ ہوگا اور تب نہ تو گناہ کا وجود ہوگا اور نہ غم ہو گا نہ بیماری ہو گی اور نہ موت اور نہ آہ و نالہ (مکاشفہ 21:4)۔ خدا نجات یافتہ لوگوں کے ساتھ یعنی ایماندروں کے ساتھ سکونت کرے گا اور وہ اس کے فرزند کہلائیں گے (مکاشفہ 21:7)۔ اس طرح ہم پورے دائرے میں چھا جاتے ہیں کہ خدا نے ہم کو اس لئے بنایا کہ اس کے ساتھ رفاقت رکھے۔ مگر انسان نے گناہ کیا جس سے اس کی رفاقت ٹوٹ گئی۔ مگر خدا نے اپنے فضل سے یسوع مسیح کو بھیج کر اپنے ساتھ پوری طرح سے رفاقت کو بحال کرکے ہم کو ابدی حالت میں لے آیا۔ زندگی کے وسیلہ سے جانے کے لئے ہر ایک چیز کو حاصل کرنا صرف خدا سے جدا ہو کر مر جانا ہے اس لئے کہ ابدیت فضول سے بدتر ثابت ہوگا! مگر خدا نے ایک راستہ تیار کیا جس سے نہ صر ابدی روحانی مسرت ممکن ہے (لوقا 23:43)۔ بلکہ زمین پر زندگی آسودہ کرنے والی اور معنی دار ہو گی۔ یہی ایک راز ہے کہ کس طرح زمین پر بھی اس ابدی روحانی مسرت کو حاصل کیا جا سکتا ہے

یسوع مسیح کے ذریعہ بحال شدہ زندگی کا مطلب:

حقیقی زندگی کے معنی ہیں ابھی اور ابدیت میں خدا کے ساتھ رشتہ کی بحالی میں پایا جانا جس کو آدم اور حوا کے گناہ میں گرنے کے بعد کھو دیا گیا تھا۔ خدا کے ساتھ وہ رشتہ صرف اور صرف اس کے بیٹے یسوع مسیح کے وسیلہ سے ممکن ہے (رسولوں کے اعمال 4:12؛ یوحنا 1:12؛ 14:6)۔ ابدی زندگی تبھی حاصل ہو تی ہے جب ہم اپنے گناہوں کا اقرار کرتے اور اسے چھوڑ بھی دیتے ہیں (امثال 28:13)۔ مطلب اس کو جاری رکھنے کی خواہش نہیں رکھتے ان پر خدا کا رحم بھی ہو تاہے۔ اور یسوع ہماری زندگیوں کو بدلتاہے، ہمیں ایک نیا مخلوق بناتا ہے۔اور ہم مسیح یسوع پر اپنا نجات دہندہ بطور منحصر رہتے ہیں۔

زندگی کے حقیقی معنی صرف یسوع کو نجات دہندہ قبول کرنے میں ہی نہیں پایا جاتا بلکہ ایک عجیب طرح سے وہ حقیقی زندگی تب بنتا ہے جب ایک شخص مسیح کے پیچھے اس کا شاگرد بن کر چلنے لگتا ہے، اس سے سیکھنے لگتا ہے، اس کے ساتھ اس کے کلام کے ساتھ وقت گزارنے لگتاہے، اس کے ساتھ دعا کی رفاقت میں رہنے لگتا ہےاور اس کا حکم مان کر اس کی اطاعت میں چلنے لگتاہے۔اگر آپ ایک مسیحی نہیں ہیں (یا پھر شاید ایک نئے ایماندار ہیں) تو ہو سکتا ہے کہ آپ خود سے کہہ رہے ہوں گے کہ "یہ میرے لئے اتنا زیادہ اکسانے یا ابھارنے والی بات نہیں ہے" مگر یسوع مسیح نے ذیل کی باتوں کااعلان اس طرح سے کیا ہے:

"اے محنت اٹھانے والو اور بوجھ سے دبے ہوئے لوگو! سب میرے پاس آؤ۔ میں تم کو آرام دوں گا۔ میرا جوا اپنے اوپر اٹھا لو اور مجھ سے سیکھو کیونکہ میں حلیم ہوں اور دل کا فروتن۔ تو تمہاری جانیں آرام پائیں گی۔ کیونکہ میرا جؤا ملائم ہے اور میرا بوجھ ہلکا" (متی 30-28 :11)۔ "میں اس لئے آیا کہ وہ زندگی پائیں اور کثرت سے پائیں" (یوحنا 10:10)۔ اگر کوئی میرے پیچھے آنا چاہے تو اپنی خودی کاانکار کرے اور اپنی صلیب اٹھائے اور میرے پیچھے ہو لے۔ کیونکہ جو کوئی اپنی جان بچانا چاہے اسے کھو ئے گا اور جو کوئی میری خاطر اپنی جان کھوئے گا اسے پائے گا۔اور اگر آدمی ساری دنیا حاصل کرے اور اپنی جان کا نقصان اٹھائے تو اسے کیا فائدہ" ؟ (متی 25-24 :16)۔ "خداوند میں مسرور رہ اور وہ تیرے دل کی مرادیں پوری کرے گا" (زبور شریف 37:4)۔

یہ جو آیتیں ہم سے کہہ رہی ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے پاس ایک چناؤ یا انتخاب ہے۔ ہم اپنے خود کی زندگیوں کی کھوج کو جاری رکھ سکتے ہیں جس کا انجام یا تو خالی پن ہے یا پھر اپنی اپنی زندگیوں کے لئے پورے دل کے ساتھ خدا اور اس کی پاک مرضی کی تلاش اور جستجو ہے۔ اس کا حصول ہم کو بھرپوری کی زندگی جینے، ہمارے دلوں کی مرادیں پوری ہونے، اطمینان اور آسودگی حاصل کرنے کے قابل بناتاہے۔ یہ اس لئے ایسا ہوگا کیونکہ ہمارا خالق ہم سے پیار کرتاہے اور ہمارے لئے سب سے بہترین چاہتا ہے (کوئی ضروری نہیں کہ آسان سے آسان زندگی ہو مگر سب سے زیادہ بھر پوری کی زندگی)۔

مسیحی زندگی کو چناؤ سے بھی موازنہ کیا جا سکتا ہے کہ اسٹیڈیم میں کھیل کا مزہ لینے کے لئے کونسی سیٹ کا چناؤ کرتے ہیں آیا کہ ہم کتنا قریب یا کتنا دور بیٹھ کر کھیل کا مزہ لینا چاہتے ہیں۔ زیادہ پیسے دے کر آگے کی سیٹ میں یا کم پیسے دے کر پیچھے کی سیٹ میں۔ آگے کی قطار میں بیٹھ کر خدا کے کاموں پر نظر کرنا یہ ہماری چناؤ ہونا چاہئے۔ مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ اکثر مسحی لوگ اس چناؤ کو پسند نہیں کرتے مسیح کے شاگردوں نے اپنے پورے دل کے ساتھ براہ راست خداکے کاموں کو دیکھا جنہوں نے سچائی کے ساتھ اپنی خواہشوں کے پیچھے چلنا چھوڑکر خدا کی پاک مرضی کےپیچھے چلنے کی ٹھانی۔ انہوں نے اس کے لئے بہت بڑی قیمت ادا کی۔ (مسیح اور اس کی پاک مرضی کے تحت ایک مکمل اطاعت)۔ انہوں نے خود کو مسیح کے حوالہ کر دیا کہ جس طرح بھی چاہے ویسے ان کا استعمال کرے۔ وہ پوری بھر پوری کی زندگی کا تجربہ کر رہے تھے۔ ان کی زندگیوں میں کوئی ملال نہیں تھا۔ وہ اپنے خداوند کے رو برو ہو سکتے تھے کسی کو اپنا چہرہ چھپانے کی ضرورت نہیں تھی۔ وہ اپنے ساتھ کام کرنےوالے اور اپنے خالق کے ساتھ ساتھ بغیر کسی پچھتاوے کے چل رہے تھے۔ کیا آپ نےقیمت ادا کی ہے۔ کیا آپ قیمت اداکرناچاہتے ہیں۔ اگر ایسی بات ہے تو دوبارہ اپنے مقصد کے لئے اور زندگی کے معنی حاصل کرنے کے لئے بھوکے نہیں ہوں گے۔



اردو ہوم پیج میں واپسی



زندگی کےکیا معنی ہیں؟