نسل پرستی ، تعصب اور تفریق کے بارے میں بائبل کیا کہتی ہے ؟




سوال: نسل پرستی ، تعصب اور تفریق کے بارے میں بائبل کیا کہتی ہے ؟

جواب:
اِس بحث میں سمجھنے والی اولین بات یہ ہے کہ یہاں ہر صرف ایک ہی نسل ہے وہ نسلِ انسانی ہے ۔ کاکشیائی ۔ افریقی ، اییشیائی ، ہندوستانی ، عربی اور مختلف نسلیں نہیں ہیں ۔ بلکہ یہ نسلِ انسانی کے مختلف علاقائی گروہ ہیں ۔ تمام انسان ایک جیسی جسمانی خصوصیات رکھتے ہیں ( بے شک تھوڑے بہت تغیرات کے ساتھ ہی سہی ) ۔ زیادہ اہم بات یہ ہے کہ تمام بنی نوع انسان خدا کی شبیہ پر اور اُس کی مانند تخلیق ہوئے ہیں ( پیدائش 1 : 26 ۔ 27 ) ۔ خدا دُنیا سے بہت زیادہ محبت رکھتا ہے کہ اُس نے یسوع کو بھیجا کہ وہ ہمارے لیے اپنی زندگی قُربان کرے ( یوحنا 3 : 16 ) واضح طور پر " دُنیا " میں تمام علاقائی گروہ شامل ہیں ۔

خدا جانب داری یا بے جا رعایت نہیں دکھاتا ہے ( استثنا 10 : 17 ) اعمال 10 : 34 ، رومیوں 2 : 11 ، افسیوں 6 : 9 ) اور نہ ہی ہمیں دکھانی چاہیے ۔ یعقوب 2 : 4 آیت اپنکو بیان کر تی ہے وہ جنہوں نے " ند نیت منصف " کے طور پر تفریق کی ۔ اس کی بجائے ہمیں اپنے پڑوسیوں سے اپنی طرح پیار کرنا ہو گا ۔ ( یعقوب 2 : 8 ) ۔ پُرانے عہد نامے میں خدا نے بنی نو ع انسان کو دو " علاقائی گروہوں " یہودیوں اور غیر یہودیوں میں تقسیم کیا تھا ۔ یہودیو ں کے لیے خا کا منصوبہ غیر یہود ی اقوام میں منادی کرنے کے لیے پادریوں کی بادشاہت بنانا تھا ۔ اِس کی بجائے زیادہ تر یہودی اپنے رُتبے پر متکبر ہو گئے اور غیر یہودیوں کو حقارت سے دیکھنے لگے ۔ یسوع مسیح نے اختلاف کی تقسیم کرنے والی دیوار کو نیست و نابود کر تے ہوئے اِس کو اختتام تک پہنچایا ۔ ( افسیوں 2 : 14 ) نسل پرستی ، تعصب اور تفریق کی تمام قسمیں صلیب پر مسیح کے عمل کی کھلم کھُلا تو ہین کر تی ہیں ۔

یسوع ہمیں ایک دوسرے سے ایسے محبت کرنے کا حکم دیتا ہے جیسے وہ ہم سے محبت کرتا ہے ( یوحنا 13 : 34 ) اگر خدا غیر جانبدار ہے اور غیر جانبداری سے ہمیں محبت کرتا ہے ، تو پھر ہمیں بھی دوسروں کے ساتھ اِس طرح کی اعلیٰ معیار کے ساتھ محبت کرنے کی ضرورت ہے ۔ متی 25 باب میں یسوع ہمیں سکھاتا ہے کہ جو کچھ ہم اس کے چھوٹے بھائیوں کے ساتھ کر تے ہیں ، اُس کے ساتھ کر تے ہیں ۔ اگر ہم ایک شخص کے ساتھ حقارت کا برتاو کر تے ہیں تو ہم خدا کی شبیہ پر تخلیق شُدہ ایک آدمی کی توہین کر رہے ہوتے ہیں ۔ ہم کسی کی دل آزاری کر رہے ہوتے ہیں جسے خدا پیار کرتا ہے اور جس کے لیے یسوع موا تھا ۔

نسل پرستی ہزاروں سالوں تک بہت ساری شکلوں میں اور بہت سارے درجوں میں انسانیت پر ایک طاعون کی طرح رہی ہے ۔ تمام علاقائی گروہوں کے بھائیوں اور بہنوں کو ایسا نہیں ہو نا چاہیے ۔ نسل پرستی ، تعصب اور تفریق کے شکار لوگوں کو معاف کرنے کی ضرورت ہے ۔ افسیوں 4 : 32 بیان کر تی ہے ، " اور ایک دوسرے پر مہربان اور نرم دل ہو اور جس طرح خدا نے مسیح میں تمہارے قصور معاف کیے تُم بھی ایک دوسرے کے قصور معاف کرو۔"

نسل پرستی کرنے والے شاید آپ کی معافی کے مستحق نہیں یں لیکن ہم خدا کی معافی کے مستحق ہیں ۔ وہ جنہوں نے نسل پرستی ، تعصب اور تفریق کرتے ہیں اُن کو توبہ کرنے کی ضرورت ہے ، " اپنے آپ کو مُردوں میں سے زندہ جان کر خدا کے حوالہ کرو اور اپنے اعضاراستبازی کے ہتھیار ہونے کے لیے خدا کے حوالہ کرو ۔" شاید گلتیوں 3 : 28 مکمل طورپر اظہار کرتی ہے ، " نہ کوئی یہودی رہا نہ یونانی ، نہ کوئی غلام نہ آزاد ، نہ کوئی مرد نہ عورت کیونکہ تُم سب مسیح یسوع میں ایک ہو ۔ "



واپس اردو زبان کے پہلے صفحے پر



نسل پرستی ، تعصب اور تفریق کے بارے میں بائبل کیا کہتی ہے ؟