غير زبانوں كي نعمت كيا هے؟ کیا غير زبان كي نعمت آج كي دنيا كے ليے هے؟




سوال: غير زبانوں كي نعمت كيا هے؟ کیا غير زبان كي نعمت آج كي دنيا كے ليے هے؟

جواب:
غیر زبان میں بولنا پهلی دفعه اس وقت هوا جب پنتکوست کے دن اعمال2باب1تا4آیت۔ شاگرد باهر نکلے اور هجوم سے کلام مقدس کو بیان کیا، وه ان سے ان کی اپنی هی زبان میں بات کررهے تھے، "مگر اپنی اپنی زبان میں ان سے خدا کے بڑے بڑے کاموں کا بیان سنتے هیں"﴿اعمال2باب11آیت﴾۔ یونانی لفظ جس کا ترجمه زبانیں کیا گیا هے اس کا ادبی مطلب بولیاں هے۔ اس لیے غیر زبان کی نعمت وه زبان هے جس کو آدمی نه جان سکے اور وهی جانے جو اس زبان کو سمجھ سکتا هو۔ 1۔کرنتھیوں12اور14باب میں پولوس معجزانه نعمتوں کے بارے میں بیان کرتا هے، وه بتاتا هے که ، "پس اے بھائیوں اگر میں تمهارے پاس آکر بیگانه زبانوں میں باتیں کروں اور مکاشفه یا علم یا نبوت یا تعلیم کی باتیں تم سے نه کهوں توتم کو مجھ سے کیا فائده هو؟ ﴿1۔کرنتھیوں14باب6آیت﴾۔ پولوس رسول کے مطابق اور وعدے کے ساتھ جو زبانیں اعمال میں بیان کی گئی هیں ، غیرزبان میں بولنا اس ایک شخص کے لیے تو اچھا هے جو مرد یا عورت اس پیغام کو سمجھتا هے مگر دوسرے سب کے لیے یه بے فائده هے۔ اس وقت تک جب تک کوئی دوسرا اس کا ترجمه نه کرے۔

ایک شخص جس کو غیر زبانوں کا ترجمه کرنے کی نعمت ملی هے ﴿1۔کرنتھیوں12باب30آیت﴾سمجھ سکتا هے که غیر زبان بولنے والا شخص کیابول رها هے جبکه وه مرد یا عورت جو اس زبان کو بول رهی هے نهیں جانتی که کیا بول رها هے یا رهی هے۔ غیر زبان کا ترجمه کرنے والااس وقت غیر زبان بولنے والے کا پیغام دوسروں تک پهنچا رها هوتا هے تاکه سب سمجھ سکیں۔ "اس سبب سے جو بیگانه زبان میں باتیں کرتا هے وه دعا کرے که ترجمه بھی کر سکے ﴿1۔کرنتھیوں14باب13آیت﴾۔ پولوس غیرزبانوں کے بارے میں اس زبردست نتیجے پر پهنچا، "لیکن کلیسیا میں بیگانه زبان میں دس هزار باتیں کهنے سے مجھے یه زیاده پسند هے که اوروں کی تعلیم کے لیے پانچ هی باتیں عقل سے کهوں"﴿1۔کرنتھیوں14باب19آیت﴾۔

کیا غیر زبان کی نعمت آج کے دور کے لیے هے؟ 1۔کرنتھیوں13باب8آیت بتاتی هے که زبانیں جاتی رهیں گی، اگرچہ یه ناقص جاتا رهے گا جب "کامل"آئیگا 1۔کرنتھیوں13باب10آیت۔ کچھ نقطوں میں یه فرق زبانوں ، نبوت، اور حکمت "ختم هو جائیگی"، زبانوں کے ساتھ "ختم هو جائیں گی"یه ایک ثبوت هے که یه زبان جب کامل آئیگا تو جاتی رهیں گی۔ هوسکتا هے که یه واضع طور پر اس آیت سے بیان نه هوئی هو۔ پھر بھی کچھ آیات همیں راه دکھاتی هیں جیسے یسعیاه 28باب11آیت اور یوایل2باب28تا29آیت ثبوت هے که غیر زبان خدا کانشان هے آخیر زمانے کے لئے۔ 1۔کرنتھیوں14باب22آیت بیان کرتی هے که غیرزبان بے ایمانوں کے لئے ایک نشان هے۔ اس بیان کے مطابق غیر زبان کی نعمت یهودیوں کے لیے ایک تنبیه هے که خدا اسرائیل کا انصاف کرنے کے لیے آنے والا هے۔ جنهوں نے یسوع مسیح کو نجات دهنده ماننے سے انکار کیا تھا۔ اسی لیے جب خدا نے اسرائیل کو جانچااور﴿70اے ڈی میں جب رومیوں کے ذریعے یروشلیم کو تباه کیا ﴾تو غیر زبان کی نعمت نے اس کے اس مقصد کو پھر پورا نه کیا ۔ جبکه یه بھی هوسکتا هے، غیرزبان کا ابتدائی مقصد پورا هو گیا هو مگر اسے موقوف نه کیا گیا هو۔ مگر کلام مقدس اس بات کی حمایت نهیں کرتا که غیرزبان کی نعمت کو موقوف کر دیا گیا هے۔

ایک هی وقت میں اگر غیر زبانیں آج کی کلیسیا میں بولی جاتی هیں۔ یه کلام مقدس کے وعده کے ذریعے هو رها هے۔ یه زبان حقیقی اور حکمت سے پُر هے ﴿1۔کرنتھیوں14باب10آیت﴾۔ اس کا مقصد خدا کے کلام کو اس آدمی تک پهنچنا جو دوسری زبان کو جانتا هو ﴿اعمال2باب6تا12آیت﴾۔ یه حکم اس عهد کے ساتھ هے که جو خدا پولوس رسول کی معرفت دیتا هے، "اگر بیگانه زبان میں باتیں کرنا هو تو دو دو یا زیاده سے زیاده تین تین شخص باری باری سے بولیں اور ایک شخص ترجمه کرے۔ اور اگر کوئی ترجمه کرنے والا نه هو تو بیگانه زبان بولنے والا کلیسیا میں چپکا رهے اور اپنے دل سے اور خدا سے باتیں کرے"﴿1۔کرنتھیوں14باب27تا28آیت﴾۔ 1۔کرنتھیوں14باب33آیت میں یه بھی لکھا هے ، "کیونکه خدا ابتری کا نهیں بلکه امن کا بانی هے۔ جیسا مقدسوں کی سب کلیسیاؤں میں هے "۔

خدا یقینا غیرزبان کی نعمت اس مرد یا عورت کو دیتا هے جو کسی غیر زبان بولنے والے شخص سے مخاطب هوا چاهے ۔ پاک روح حاکم اعلیٰ هے جو روحانی نعمتوں کو بانٹتا هے ﴿1۔کرنتھیوں12باب11آیت﴾۔ صرف یه تصور کریں که یه مبلغین کتنے فائده مند هو سکتے هیں ۔ اگر جو کسی زبان سیکھانے والے سکول میں نهیں گئے اور یه بڑی هی روانی سے لوگوں سے ان کی اپنی هی زبان میں بات کرتے هیں۔ تاهم خدا ایسا کرنا نهیں چاهتا۔ زبانیں اسی طرح نهیں بولی جاتیں جیسے که یه نئے عهد نامے میں بولی جاتیں اس کے باوجود درحقیقت یه ایک بهت هی کامیاب اور مفید هے۔ ایمانداروں کی زیاده اکثریت جو غیرزبان کی نعمت کو استعمال کرتے هیں ایسا نهیں کرتے جیسا که کلام مقدس میں اوپر بیان کیا گیا هے ۔ یه حقیقت همیں اس نتیجے تک پهنچاتی هے که غیرزبانوں کی نعمت موقوف هوگئی هے، یا کم از کم یه خدا کے منصوبے میں آج کی کلیسیاؤں میں بهت کم پائی جاتیں هیں۔

جو لوگ یه سمجھتے هیں که غیر زبان کی نعمت ایک "دعائیه زبان"هے انکے اپنے اخلاقی اقدار کو بهتر بنانے کے لیے، وه اپنے اس تصور کو 1۔کرنتھیوں14باب4آیت اور14باب28آیت، "جو بیگانه زبان میں باتیں کرتا هے وه اپنی ترقی کرتا هے اور جو نبوت کرتا هے وه کلیسیا کی ترقی کرتا هے"۔ باب14میں پولوس رسول اس بات پر زور دیتا هے که غیر زبان کا ترجمه هو نا ضروری هے ، دیکھیں 14باب5تا12آیت۔ پولوس رسول آیت 4میں کیا کهتا هے ، "اگر تم غیر زبان بغیر ترجمه کے بولتے هو تم کچھ نهیں کرتے سوائے اس کے لیے که اپنے آپ کو ٹھیک کرتے هو۔ اپنے آپ کو دوسروں سے زیاده روحانی ظاهر کرتے هو۔ اگر تم غیر زبان میں بولتے هو اور ساتھ ترجمه بھی کرتے هو تو سب کے لیے بھلائی کرتے هو"۔ نیا عهد نامه کهیں بھی اس بات کی هدایت نهیں کرتا که آپ دعا میں غیر زبان کا استعمال کریں۔ نیا عهد نامه کهیں بھی غیر زبان کو "دعائیه زبان"نهیں بتاتا یا خاص طور پر یه نهیں بتاتا که غیر زبان "دعائیه زبان"هے۔ مزید یه که اگر غیر زبان دعائیه زبان هے تو یه صرف خود هی کی بهتری هے، کیا یه ناانصافی نهیں ان سے جن کے پاس غیر زبان کی نعمت نهیں اور جو خود کو بهتربنانے کے قابل نهیں هوئے؟ 1کرنتھیوں12باب29تا30آیت واضع طور پر یه بتاتی هے که هر ایک کو غیر زبان کی نعمت نهیں ملی



واپس اردو زبان کے پہلے صفحے پر



غير زبانوں كي نعمت كيا هے؟ کیا غير زبان كي نعمت آج كي دنيا كے ليے هے؟