خود كشي كے بارے ميں مسيحي رائے كيا هے؟ كلامِ مقدس خودكشي كے بارے ميں كيا كهتا هے؟




سوال: خود كشي كے بارے ميں مسيحي رائے كيا هے؟ كلامِ مقدس خودكشي كے بارے ميں كيا كهتا هے؟

جواب:
کلامِ مقدس کے مطابق، خواه کوئی شخص اس لئے خودکشی نهیں کرتا که اسے کیا معلوم که وه مرد یا عورت جنت میں داخل هو پائیں گے۔ اگر ایک غیر نجات یافته شخص خودکشی کرتا هے، اس مرد یا عورت نے کچھ نهیں کیا لیکن انهوں نے آگ کی جھیل کی طرف اپنا سفر"جلد"شروع کردیا هے۔ بهرحال ، جس شخص نے خودکشی کی هوگی آخر کار وه مسیح کے ذریعے نجات کو قبول نه کرنے کی وجه سے دوزخ میں جائے گا، کلامِ خدا میں کچھ لوگوں کا خاص طور پر ذکر کیا گیاہے جنہوں نے خود کشی کی۔ ابی ملک ّ(قضاۃ ۹ باب ۵۴ آیت)، ساؤل ﴿1۔سموئیل31باب4آیت﴾، اخیتُفل ﴿2۔سموئیل17باب23﴾، زمری﴿1۔سلاطین16باب18آیت﴾، اور یهوداه ﴿متی27باب5آیت﴾۔ یه سب مکار، بُرے ، گناه سے بھر ے هوئے انسان تھے۔ کلامِ مقدس کی نظر میں خود کشی قتل کے برابر هے یه اس لئے یه اپنا قتل هے۔ خدا هی وه واحد ایک هے جو فیصله کرتا هے که کب اور کیسے کسی شخص کو مرنا هے۔ اس طرح کی طاقت کو اپنے هاتھوں میں لینا، کلامِ مقدس کے مطابق خداکے حضور گستاخی هے۔

کلامِ مقدس کیا کهتا هے جب کوئی مسیحی خودکشی کرتا هے؟ میں یقین نهیں کرتا که کوئی مسیحی خودکشی کرتا هے تو وه اپنی نجات کھو دے گا اور جهنم میں جائے گا۔ کلامِ مقدس تعلیم دیتا هے که جس لمحے کوئی شخص مسیح پر سچا ایمان لاتا هے ، وه مرد یا عورت ابدی حفاظت پاتا هے ﴿یوحنا3باب16آیت﴾۔ کلامِ مقدس کے مطابق، هرطرح کے شک کے باوجود مسیحی جانتے هیں که وه همیشه کی زندگی رکھتے هیں چاهے کچھ بھی هو۔ "میں نے تم کو جو خدا کے بیٹے کے نام پر ایمان لائے هو یه باتیں اس لئے لکھیں که تمهیں معلوم هو که همیشه کی زندگی رکھتے هو"﴿1۔یوحنا5باب13آیت﴾۔ کوئی چیز مسیحیوں کو خدا کی محبت سے جدا نهیں کرسکتی "کیونکه مجھ کو یقین هے که خدا کے جو محبت همارے خداوند مسیح یسوع میں هے اس سے هم نه موت جدا کرسیکگی نه زندگی۔ نه فرشتے نه حکومتیں۔ نه حال کی نه استقبال کی چیزیں۔ نه قدرتیں نه بلندی نه پستی نه کوئی اور مخلوق"﴿رومیوں8باب38تا39آیت﴾۔ کوئی "بنائی هوئی مخلوق"مسیحی کو خدا کی محبت سے جدا نه کر سکے گی، اگر کوئی مسیحی خودکشی کرتا هے جو"مخلوق هے"پھر خودکشی بھی اسے خدا کی محبت سے جدا نه کرسکے گی۔ یسوع همارے تمام گناهوں کے لیے مُوا اور اگر کوئی سچا مسیح یه کرتا، تو روحانی حملے اور کمزوری میں خودکشی کرتا هے تو یه گناه هوگا جس کے لئے یسوع مُوا۔

یه نهیں کها جاتا که خودکشی کرناخدا کے خلاف ایک سنجیده گناه نهیں هے۔ کلام مقدس کے مطابق خودکشی قتل هے یه همیشه سے غلط هے ۔ میں اس شخص کے ایمان کے بارے میں ابھی بھی شک رکھتا هوں جو مسیحی هونے کا دعویٰ بھی کرے اور اسکے باوجود خودکشی بھی کرے۔ یهاں ایسے حالات نهیں جو کسی کے لئے واجب ٹھهریں خاص کرکے مسیحی کے لئے که وه مرد یا عورت اپنی جان لے لے۔ مسیحی کو خدا کے لئے زندگی گذارنے کے لئے بلایا گیا۔ کب کس نے مرنا هے یه فیصله صرف خدا کا هے صرف اور صرف خدا کا۔ شاید ایک اچھا رسته جوخودکشی کو مسیحیوں کے لئے بیان کرتاهے آستر کی کتاب میں ایک قانون هے که اگر بغیر طلب کیے هوئے کوئی بادشاه کے حضور آئے تو اسے سزائے موت کے ساتھ قید کردیا جاتا هے جب تک که بادشاهت کسی دوسرے شخص کومنتقل نهیں هوجاتی جو رحم کی علامت هے۔ خودکشی ایک مسیحی کے لئے ایسا رسته هے جو خود بادشاه کو دیکھناهے بجائے کے اس کا انتظار کیا جائے که وه آپ کو طلب کرے۔ وه اپنا گدی نشین آپ کو بنائے گا، آپ کی ابدی زندگی کو بچاتے هوئے، لیکن اس کا یه مطلب نهیں که وه آپ سے خوش هے۔ اس کے باوجود یه خودکشی کو بیان نهیں کرتا، کلامِ مقدس 1۔کرنتھیوں3باب15آیت ایک اچھی تفصیل هے که اگر کوئی مسیحی خودکشی کرتا هے تو اس کے ساتھ کیا هوتا هے "اور جس کا کام جل جائے گا وه نقصان اُٹھائے گا لیکن خود بچ جائیگا مگر جلتے جلتے"۔



واپس اردو زبان کے پہلے صفحے پر



خود كشي كے بارے ميں مسيحي رائے كيا هے؟ كلامِ مقدس خودكشي كے بارے ميں كيا كهتا هے؟