خدا کیوں پرانے عہدنامے کی بہ نسبت نئے عہدنامے میں بالکل فرق دکھائی دیتا ہے؟



سوال: خدا کیوں پرانے عہدنامے کی بہ نسبت نئے عہدنامے میں بالکل فرق دکھائی دیتا ہے؟

جواب:
جب ہم اس سوال کی گہرائی میں جاتے ہیں تو یہاں پر ایک بنیادی غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ کیا پرانا اور نیا عہدنامہ دونوں کے دونوں خدا کی فطرت کو ظاہر کرتے ہیں؟اسی بنیادی خیال کو دوسری طرح عمل سے ظاہر کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ جب لوگ کہتے ہیں کہ پرانے عہدنامے کا خداایک غضب کا خدا ہے جبکہ نئے عہدنامے کا خدا ایک محبت رکھنے والا خدا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ تاریخی واقعات کے ذریعہ اور لوگوں کے ساتھ اس کے رشتہ کے ذریعہ کلامِ پاک ہمارے لئے خود خدا کا مکاشفہ کا لگاتار آگے بڑھنے والا سلسلہ ہے۔اور یہ سلسلہ ہو سکتا ہے کہ ہمارے غلط تصور کے لئے شرکت کرے کہ اس بابت کے خدا پرانے رعہدنامے میں نئے عہدنامہ کی بہ نسبت کیسا ہے۔کسی طرح ایک شخص پرانا اور نئے عہدنامہ دونوں کو پڑھتا ہے تو یہ ظاہرا بن جاتا ہے کہ خدا ایک عہدنامے سے دوسرے میں فرق نہیں ہے۔اور یہ بھی کہ خدا کا غضب اور اس کی محبت دونوں عہدناموں میں پائی جاتی ہے۔

مثال کے طور پر پورے پرانے عہدنامے میں خدا کو ’’ نہایت رحم کرنے والا، ترس کھانے والا، قہر کرنے میں دھیما اور محبت اور وفاداری سے بھرا ہوا خدا بطور اعلان کیا گیا ہے ‘‘۔(خروج34:6 ، گنتی14:18 ، اِثتثنا 4:31 ، نحمیاہ9:17 ، زبور شریف86:5,15 ، 108:4 ، 145:8 اور یوئیل2:13) اس کے باوجود بھی نئے عہدنامے میں خدا کا رحم اور اس کی مہربانی یہاں تک کامل طور سے ظاہر کیا گیا ہے وہ کہتا ہے خدا نے دنیا سے اتنی محبت رکھی ہے کہ اس نے اپنا اکلوتا بیٹا بخش دیا تاکہ جو کوئی اس پر ایمان لائے ہلاک نہ ہو بلکہ ہمیشہ کی زندگی حاصل کرے(یوحنا3:16 )۔پورے پرانے عہدنامے میں ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ خدا بنی اسرائیل سے اُسی بطورایک محبت رکھنے والا خدا بطور پیش آتا ہے اجس بطور ایک باپ اپنے بیٹے کے ساتھ پیش آتا ہے۔جب انہوں نے جان بوجھ کر خدا کے خلاف گناہ کیا اور بت پرستی کرنی شروع کی تب اس نے انہیں سزا دی۔اور انہیں دشمنوں کے ما تحت کر دیا۔پھر جب انہوں نے اپنے گناہوں سے توبہ کی تو اس نے ان کو ان کے دشمنوں سے رہائی دی۔بالکل اسی طرح خدا نئے عہدنامے میں بھی مسیحیوں کے ساتھ پیش آتا ہے۔مثال کے طور پر عبرانیوں12:6 ہم سے کہتا ہے’’ کیوں کہ جس سے خداوند محبت رکھتا ہے اُسے تنبیہہ بھی کرتا ہے اور جس کو بیٹا بنا لیتا ہے اُسے کوڑے بھی لگا تا ہے۔ ‘‘۔

جس طرح پورے پرانے عہدنامے میں انسان کے گناہ کے نتیجہ پر ہم خدا کے انصاف اور غضب کو نازل ہوتے دیکھتے ہیں اُسی طرح سے نئے عہدنامے میں خدا کے غضب اور قہر کو ان آدمیوں کی تمام بے دینی اور ناراستی پرآسمان سے ظاہرہوتا ہے جو حق کو ناراستی سے دبائے رکھتے ہیں(رومیوں1:18 )۔سو صاف طور سے دیکھا جائے تو پرانے عہدنامے کے موازنہ میں خدا اپنے رویّہ میں نئے عہدنامے میں کوئی فرق نہیں ہوتاہے۔خدا اپنی فطرت میں غیر متغیر(کبھی نہ بدلنے والا)ہے۔جبکہ ہم اس کی فطرت کے ایک پہلو سے کلامِ پاک کے فلاں عبارت میں کئی ایک پہلوؤں سے اس کی فطرت کو دیکھ سکتے ہیں۔خدا خود سے کبھی نہیں بدلتا۔

جب ہم کلامِ پاک کو پڑھتے اور اس کا مطالعہ کرتے ہیں تو یہ صاف ہو جاتا ہے کہ خدا پرانے عہدنامے اور نئے عہدنامے دونوں میں یکساں ہے۔حالانکہ کلامِ پاک میں 66 الگ الگ کتابیں ہیں جو دو یا تین برِّ اعظم میں، تین فرق زبانوں میں لگ بھگ 1500 سالوں کے دوران 40 مصنفوں کے ذریعہ لکھا گیا تھا۔پھر بھی بغیر کسی مخالف کے شروع سے لیکر آخر تک متحّد کیا ہواکتاب ہے۔اس میں ہم دیکھتے ہیں کہ خدا کس طرح ایک محبت رکھنے والا ہے، رحیم و کریم عادل خدا گنہ گار انسانوں سے ہر طرح کے حالات میں پیش آتا ہے۔سچ مچ خداکا کلامِ پاک بنی انسان کے لئے ایک محبت کا خط ہے۔خدا کی محبت اس کی اپنی مخلوق کے لئے خاص طور سے بنی نوع انسان کے لئے پورے کلام کا ایک ثبوت ہے۔پورے کلام پاک میں ہم دیکھتے ہیں کہ خدا پیار سے اور رحم سے اپنے ساتھ ایک رشتہ میں بندھے جانے کے لئے بلا رہا ہے۔اس لئے نہیں کہ بنی انسان اس کے مستحق ہیں بلکہ اس لئے کہ وہ فضل کرنے والااور رحم دل خداہے۔قہر کرنے میں دھیما، محبت اور وفاداری سے بھرا ہوا، مہربان اور سچا خدا ہے۔اس کے باوجود بھی ہم ایک ایسے پاک اور راستباز خدا کو دیکھتے جو اس کے کلام کی نافرمانی کرنے والوں کا اور اس کی عبادت سے انکار کرنے والوں کا انصاف کرتا ہے۔ساتھ ہی ان کا انصاف بھی کرتا ہے جواپنے ہاتھوں کے بتوں کی پرستش کرتے ہیں(رومیوں پہلا باب)۔

اس لئے کہ خدا کی راستبازی اور اس کی پا ک سیرت کے بدولت انسان کے ماضی، حال، اور مستقبل کے تمام گناہوں کا انصاف کیا جانا ضروری ہے۔اس کے باوجود بھی خدااپنے لازوال محبت میں ہمارے گناہوں کے لئے ایک کفارہ کا انتظام کیا اور صلح کے لئے ایک طریقہ نکالا تاکہ گنہ گار انسان کو خدا کے غضب سے بچنے کا راستہ نکل آئے۔اس عجیب سچّائی کو ہم 1 یوحنا4:10 میں دیکھتے ہیں جہاں اس طرح لکھاہے’’ محبت اس میں نہیں کہ ہم نے خدا سے محبت کی بلکہ اِس میں ہے کہ اس نے ہم سے محبت کی اور ہمارے گناہوں کے کفارہ کے لئے اپنے بیٹے کو بھیجا۔پرانے عہدنامے میں خدا نے ایک قربانی کا اصول کا انتظام کیاتاکہ انسان کے گناہوں کے لئے ایک کفارہ دیا جا سکے۔کسی طرح قربانی کا یہ اصول صرف عارضی تھا اور غالباً یسوع مسیح کے آنے والی قربانی کی طرف اشارہ کرتا تھا جو صلیب پر مارا گیا تھا کہ بنی انسان کے گناہوں کے لئے ایک مکمل قائم مقام ٹہرنے والا کفارہ بن سکے۔جس نجات دہندہ کے پرانے عہدنامے میں وعدہ کیا گیا تھا کہ اس کا نئے عہدنامے میں پوری طرح سے انکشاف کیا گیا۔صرف پرانے عہدنامے میں رویا دیا گیاخدا کی محبت کاآخری بشرہ او ر اپنے بیٹے یسوع مسیح کا بھیجا جانا نئے عہدنامے میں اس کے پورے جلال کے ساتھ انکشاف کیا گیاہے۔پرانا اور نیا دونوں عہدناموں میں یہ بات ظاہر کی گئی ہے جس کے لئے پولس تِمو تھِیُس سے کہتا ہے اور’’ تو بچپن سے ان پاک نوشتوں سے واقف ہے جو تجھے مسیح یسوع پر ایمان لانے سے نجات حاصل کرنے کے لئے دانائی بخش سکتے ہیں(2 تِمو تھِیُس 3:15 )۔جب ہم گہرائی سے دونوں عہدناموں کا مطالعہ کرتے ہیں تو یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ خدا نہ تو بدلتا ہے اور نہ گردش کے سبب سے اس پر سایہ پڑتا ہے(یعقوب1:17 )۔



اردو ہوم پیج میں واپسی



خدا کیوں پرانے عہدنامے کی بہ نسبت نئے عہدنامے میں بالکل فرق دکھائی دیتا ہے؟