کیا خدا نے برائی کو بنایا تھا؟



سوال: کیا خدا نے برائی کو بنایا تھا؟

جواب:
سب سے پہلے ایسا دکھائی دے سکتا ہے کہ اگر خدا نے سب چیزوں کو پیدا کیا تو اس نے برائی کو ضرور ہی پیدا کیا ہوگا۔کسی طرح برائی ایک’’ چیز ‘‘نہیں ہے۔جیسے ایک چٹان یا بجلی۔آپ اپنے پاس برائی کا کوئی مرتبان نہیں رکھ سکتے۔برائی کا اپنا کوئی وجود نہیں ہے۔حقیقت میں دیکھا جائے تو بھلائی کی غیر حاضری ہی برائی ہے۔مثال کے طور پر سوراخیں حقیقی ہیں۔مگر ان سوراخوں کا وجود صرف کسی چیز میں پایا جاتا ہے۔ہم کہتے ہیں کہ گندگی کی غیر حاضری ایک سوراخ ہے۔مگر اس کو گندگی سے الگ نہیں کیا جا سکتا ہے۔سو خدا نے جب سب چیزوں کی تخلیق کی تو یہ سچ ہے کہ جو کچھ اس نے تخلیق کی وہ سب اچھی تھیں۔ان اچھی چیزوں میں سے مخلوقات تھی جنہیں خدا نے بنائے تھے۔اور انہیں آزادی دی گئی تھی کہ وہ بھلائی کا چناؤ کرے۔ایک حقیقی چناؤ کرنے کے لئے خدا کو بھی بھلی چیز پیش کرنی تھی۔سو خدا نے فرشتوں اور انسانوں کواجازت دی کہ وہ بھلائی کا چناؤ کرے یا پھر بھلائی کا انکار کرے(یعنی کہ برائی کو اپنائے)جب دو اچھی چیزوں کے درمیان ایک برے رشتہ کا وجود ہوتا ہے توہم اُسے برائی کہتے ہیں۔مگر وہ ایک ’’چیز‘‘ نہیں بن جاتی جسے خدا کو پیدا کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

شاید مزید مثال اِسے سمجھنے میں مدد کر سکتا ہے۔اگر ایک شخص سے پوچھا جائے کہ’’ کیا جاڑا وجود رکھتا ہے ‘‘؟اس کا جواب غالباً’’ ہاں ‘‘ہوگا۔کسی طرح یہ صحیح ہے مگر جاڑے کا وجود نہیں ہے۔دراصل جاڑا گرمی کی غیر حاضری ہے۔اسی طرح تاریکی وجود نہیں رکھتی ہے، بلکہ روشنی کی غیر حاضری تاریکی ہے،اسی طرح برائی کی غیر حاضری اچھائی یعنی بھلائی ہے۔دوسرے طریقہ سے سوچا جائے تو برائی خدا کی غیر حاضری ہے۔مطلب یہ کہ اگر خدا کی حضوری کا احساس ہوگا تو انسان برائی نہیں کر سکتا۔خدا کو برائی پیدا کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔مگر اس کے بہ نسبت بھلائی کو غیر حاضر رہنا تھا۔خدا نے برائی کو پیدانہیں کیا۔مگر وہ برائی کو ہونے دیتا ہے یا آنے دیتا ہے۔

اگر خدا برائی کے ممکن ہونے کو اجازت نہ دیتا تو بنی انسان اور فرشتے بغیر کسی اعتراض کے خدا کی خدمت کر رہے ہوتے اور ان کے پاس کوئی چناؤ نہ رہ جاتا۔مگر خدا انسانوں اور فرشتوں کے بھیس میں ’’ روبوٹس ‘‘نہیں چاہتا تھا کہ جیسا خدا چاہے اس کے اشاروں پر ناچے یا اس کے پروگرام کے مطابق ہر ایک کام کو انجام دے۔خدا نے برائی کے ممکن کو ہونے دیا تاکہ ہمارے پاس صحیح معنوں میں ایک آزاد مرضی پائی جائے اور اس بات کا چناؤ کر سکے کہ ہم خدا کی خدمت کرنا پسند کرتے ہیں یا نہیں۔

ایک محدود بنی انسان ہونے کے ناطے ہم کبھی بھی پوری طرح سے لامحدود خداکو نہیں سمجھ سکتے(رومیوں11:33-34 )۔کبھی کبھی ہم سوچتے سمجھتے ہیں کہ کیوں خدا ہماری زندگیوں میں بے مطلب کی باتیں ہونے دیتا ہے۔مگر بعد میں چلکر ہم کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ کسی فرق مقصد کے لئے تھا بہ نسبت اس کے کہ ہم جو حقیقت میں سوچ رہے تھے۔خدا چیزوں کو ایک پاک اور ابدی تناسب کی نظر سے دیکھتا ہے اور ہم چیزوں کو گنہ گاری، دنیاوی اور عارضی تناسب سے دیکھتے ہیں۔خدا انسان کو زمین پر کیوں لے آیا۔یہ سب جانتے ہوئے بھی کہ آدم اور حوّا گناہ کریں گے اور برائی پیدا ہوگی اور تمام بنی نوح انسان پر دکھ اور موت آئے گی۔خدا نے ہم کو بناکر کیوں نہیں جنت میں چھوڑ دیا۔جس میں ہم ایک کامل زندگی گذارتے اور کسی طرح کی دکھ مصیبت ہم کو نہ ہوتی؟ان سوالات کا ابدیّت کی طرف مناسب طور سے جواب نہیں دیا جاسکتا۔مگر اتنا ضرور معلوم کر سکتے ہیں کہ خداجو بھی کچھ کرتا ہے وہ پاک ارادہ سے کامل طور سے اورآخرکار اپنے جلال کے لئے کرتا ہے۔خدا نے برائی کے ممکن کو اس لئے ہونے دیا تاکہ ہم کو ایک صحیح چناؤ دے جس سے اس کی تعظیم کرتے ہوئے اس کی عبادت کر سکیں۔خدا نے برائی کو پیدا نہیں کیا بلکہ اسے اجازت دی ہے۔اگر اس نے برائی کو آنے نہ دیا ہوتا ہم پابندی سے اس کی عبادت کر رہے ہوتے نہ کہ ہماری اپنی مرضی کے چناؤ سے۔



اردو ہوم پیج میں واپسی



کیا خدا نے برائی کو بنایا تھا؟