کلامِ پاک ڈائناسورس کی بابت کیا کہتا ہے؟



سوال: کلامِ پاک ڈائناسورس کی بابت کیا کہتا ہے؟ کیا کلامِ پاک میں ڈائناسورس کا ذکر پایا جاتا ہے؟

جواب:
کلام پاک میں ڈائناسورس کا مضمون مسیحی معاشرہ میں دنیا کے کئی زمانوں سے چلی آرہی ایک لمبے بحث کا حصہ مانا گیا ہے۔ اور وہ بحث ہے پیدایش کی کتاب کے سہی ترجمہ کی بابت اور کس طرح اُن مادّی ثبوتوں کا ترجمہ کریں جنہیں ہم اپنے آس پاس کے ماحول میں دیکھتے ہیں۔ جو لوگ زمین یا دنیا کے پرانے سے پرانے دور کے آخر پر اعتقاد رکھتے ہیں انہیں ماننا پڑے گا کہ بائیبل ڈائناسورس کا ذکر نہیں کرتی کیونکہ ان کی جسامت کے مطابق ڈائناسورس پہلے انسان کے زمین پر چلنے کے ہزاروں سال پہلے مر چکے تھے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ بائیبل کے مصنفین زندہ ڈائناسورس نہیں دیکھ پائے تھے۔

جو لوگ زمین یا دنیا کے کم دور پر اعتقاد کرتے ان کو بھی کسی بھی حالت میں ماننا پڑیگا کہ بائیبل ڈائناسورس کا ذکر نہیں کرتی۔ حالانکہ بائیبل نے کبھی بھی لفظ ڈائناسورس کا استعمال نہیں کیا۔ بلکہ وہ ایک عبرانی لفظ “TANNIYN” کا استعمال کرتی ہے جو کہ کچھ انگریزی بائیبل میں کبھی کبھی دیوپیکر سمندری جانور اور کبھی کبھی اژدھا بطور استعمال کیا گیا ہے۔ اسے عام طور پر اُڑنے والا جانور (ڈریگن) بطور بھی ترجمہ کیا گیا ہے۔ TANNIYN ایک قسم کا دیوپیکر کا رینگنے والا جانور بطور رونما ہوا ہے۔ ان جانوروں کا ذکر پرانے عہدنامے میں 30 بار ہوا ہے جو سُوکھی زمین اور پانی دونوں میں پائے جاتے تھے۔

اِن دیو پیکر کے رینگنے والے جانوروں کا ذکر کرنے کے علاوہ بائیبل دو اور جانوروں کا ذکر اس طریقے سے کرتی ہے کہ بائیبل کے کچھ علماء یقین کرتے ہیں کہ شاید مُصنّفین ڈائناسورس کا ذکر کر رہے تھے۔ عبرانی لفظ بہیموتھ خدا کی تمام خلقت میں سے سب سے زیادہ طاقتور جانور ہے۔ ایک دیوپیکر کا جانور جس کا دُم دیودار یا صنوبر درخت کے جیسا ہے (ایوب 40:15)۔ کچھ علماء نے بہیموتھ کو ایک ہاتھی یا ہپوپوٹیمس سے پہچان کرنے کی کوشش کی ہے جبکہ دوسروں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ ہاتھی اور ہپوپوٹیمس کے بہت چھوٹے اور پتلے دم ہوتے ہیں۔ اُن کے دُموں کو دیودار یا صنوبر کے درخت سے موازنہ نہیں کیا جاسکتا۔ جبکہ دوسری طرف ڈائناسورس، بریچھیوسورس اور ڈپلوڈوکس اِن کے بہت بڑے اور لمبے دُم ہوتے ہیں جن کا موازنہ آسانی سے دیودار صنوبر کے درخت کے ساتھ کیا جاسکتا ہے۔

قریب قریب ہر ایک قدیم تہذیب یافتہ حکومت کے پاس فنکاری کے کچھ دیوپیکر رینگنے والے جانوروں کی تصویر یا نقشہ پایا جاتا ہے۔ اِسی سے متعلق لکڑی کی پٹیوں اور پتھر کی لوحوں پر ابھرے ہوئے الفاظ، فن کا آلہ جس کو انسان کے ہاتھوں نے شکل دیا تھا، یہاں تک کہ مٹی کے بنے چھوٹے مجسمے شمالی امریکہ کے آثارِ قدیمہ کے نمائش گاہ میں پائے گئے تھے۔ اِس نمائش گاہ کا نام ’’نارتھ ا مریکہ رِزمبل مارڈن ڈِپکشنس آف ڈائناسورس تھا۔ اِسی طرح جنوبی امریکہ کے آثارِ قدیمہ کی نمائش گاہ میں بھی پتھر سے کھُدے ہوئے نقوش پائے گئے اور وہ نقوش تھے ڈپلوڈوکس جیسے جانور پر سواری کرتے ہوئے آدمی اور ان میں اچھنبا پیدا کرنے والا مشہور ٹرائی سیراٹاپ (تین سروں والا چیتا) اور پیٹروڈیکٹل (اُڑنے والا جانور) اور ٹائیرانوسورس۔ یہ ہے گوشت خور ڈائناسورس ان سب کی تصویریں وہاں پائی گئیں تھیں۔ اس کے علاوہ رومن موسائیکس، مییان پوٹیری اور بابل کے شہر کی دیواریں یہ سب کے سب انسانی تہذیب و تمدّن اور جغرافیہ کی رُو سے بے مقید دِلکشی اِن جانوروں کے ساتھ بدلے ہوئے حالات کو ظاہر کرتی ہیں۔ سنجیدہ اشخاص جیسے ماکروپولو دوم اور ملیون مِنگل ان کی عجیب و غریب داستان کے مطابق یہ خزانہ ذخیرہ کرنے والے جانور تھے۔ مطلب یہ کہ ان کے ذریعہ لوگ ذخیرہ کرتے تھے۔ اس کے علاوہ حقیقی مقدار کی انسانی تاریخی ثبوتیں ڈائناسورس اور انسان دونوں کی ہم موجودیت کے مادّی ثبوتیں موجود ہیں جیسے کہ پتھروں میں بنے انسانوں اور ڈائناسورس کے پاؤں کے نشان ایک ساتھ شمالی امریکہ اور مغربی مرکزی ایشیا کے جنگلوں میں پائے گئے۔

سو اب سوال یہ ہے کہ کیا بائیبل میں ڈائناسورس پائے جاتے ہیں؟ یہ معاملہ فیصلہ سے بہت دور ہے۔ یہ اس بات پر منحصر کرتا ہے کہ جو ثبوتیں ہاتھ لگی ہیں اُن کاآپ کس طرح ترجمہ کرتے یا اس کی چھان بین کرتے ہیں اور کس طرح دنیا پر نظر کرتے ہیں جو آپ کے اطراف موجود ہے۔ اگر بائیبل کا ترجمہ لفظ بہ لفظ سہی معنوں میں ہوا ہے تو موجودہ دنیا کی ترجمانی نتیجہ بھگتے گا اور یہ تصور ڈائناسورس اور انسان کی موجودیت ایک ساتھ تھی تو اِسےقبولا جاسکتا ہے۔ اگر ڈائناسورس اور بنی انسان کی موجودیت ایک ساتھ تھی تو ڈائناسورس کا کیا ہوا؟ جبکہ بائیبل اس کی بابت بحث نہیں کرتی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ماحول کے مطابق عجیب و غریب تبدیلیوں کے اتحاد کے سبب سے اور یہ حقیقت کہ وہ آدمیوں کے ذریعے مضبوطی کے ساتھ برباد کرنے کے لئے شکار نہ ہو جائیں۔ ڈائناسورس حضرت نوحؔ کے طوفان سے کچھ عرصہ پہلے ختم ہو چکے تھے۔



اردو ہوم پیج میں واپسی



کلامِ پاک ڈائناسورس کی بابت کیا کہتا ہے؟ کیا کلامِ پاک میں ڈائناسورس کا ذکر پایا جاتا ہے؟