کیا جوا بازی ایک گناہ ہے؟



سوال: کیا جوا بازی ایک گناہ ہے؟ جوابازی کی بابت کلامِ پاک کیا کہتا ہے؟

جواب:
کلامِ پاک خاص طور سے جوئے بازی، بازی لگانے یا لاٹری کو مجرم قرار نہیں دیتی۔ اس کے عوض میں کلامِ پاک کسی طرح ہم کو خبردار کرتا ہے کہ ہم دولت کو پیار کرنے سے دُور رہیں (1 تیموتھیس 6:10؛ عبرانیوں 13:5)۔ کلامِ پاک اس بات کی حوصلہ افزائی کرتا ہے کہ ’’بہت جلد دولتمند بننے‘‘ کی آزمایش سے دُور رہیں (امثال 13:11؛ 23:5؛ واعظ 5:10)۔ جوئے بازی سب سے زیادہ یقینی طور سے دولت کی چاہت پر دھیان لے جاتا اور بغیر کسی انکاری کے لوگوں کو بہت جلد اور آسانی سے امیر بننے کے وعدہ کے لئے آزماتا ہے۔

جوئے بازی میں خرابی کیا ہے؟ جوئے بازی ایک مشکل معاملہ ہے کیونکہ یہ اعتدال کے ساتھ اور صرف مناسب اوقات پر کیا جاتا ہے۔ جوئے بازی پیسوں کی بربادی ہے۔ مگر یہ ضروری نہیں کہ یہ بہت زیادہ بُری بات ہے۔ لوگ کئی ایک کاموں میں فضول خرچی کرتے ہیں، جوئے بازی (کئی ایک حالات) میں سنماحال میں جاکر پکچر دیکھنے سے کم نہیں ہے۔ بے فضول میں مہنگے کھانے کھانا، یا قیمتی نکمّی چیزیں خریدنا۔ یہ بھی ایک طرح کی جوئے بازی میں گنا جاتا ہے۔ حقیقت میں دیگر اچھی اور مناسب اور ضرورت کی چیزیں خریدیں یہ جوئے بازی میں نہیں گنا جاتا۔ پیسوں کو فضول خرچی میں نہیں لگانا چاہئے۔ اگر آپ کے پاس ضرورت سے زیادہ دولت ہو تو اُسے اپنی مستقبل کی ضرورتوں کے لئے بچاکر رکھیں یا پھر نیک کام میں خدا کے کام کے لئے خیرات اور سخاوت کریں نہ کہ جوئے بازی میں اُڑائیں۔

جبکہ کلامِ پاک واضح طور سے جُوئے بازی کا بیان نہیں کرتا مگر ’’خوش نصیبی‘‘ یا ’’موقع‘‘ کے واقعات کا ضرور بیان کرتا ہے۔ احبار کی کتاب میں بنی اسرائیل جب بکروں کی قربانی ادا کرتے تھے بکروں کے انتخاب کے لئے قُرعہ کا استعمال کرتے تھے۔ کچھ خاص بکرے جن میں کوئی علت نہ پائی جائے انہیں الگ کرکے اُن میں کس کی قربانی دینی ہے اس کے لئے قُرعہ ڈالا جاتا تھا۔ اُن میں جو جانور بچ نکلتے تھے انہیں دوسرے سال تک نشان لگا کر الگ رکھا جاتا تھا۔ حضرت موسیٰ کی موت کے بعد یشوع نے بارہ قبیلوں میں زمین کے بٹوارے کے لئے قرعہ کا استعمال کیا۔ نحمیاہ جب یروشلیم کی ٹوٹی دیواروں کی مرمت کا بیڑا اٹھایا تو یہ فیصلہ کرنے کے لے کہ کون شہرپناہ کی دیوار کے اندر یا باہر رہ کر کام کرے گا قرعہ کا استعمال کیا۔ یہودا اسکریوتی نے خداوند یسوع کو دھوکہ سے پکڑوانے کے بعد جب اس نے خود کو خطاکار محسوس کیا تو پھانسی لگا کر خودکشی کرلی تھی اور بارہ شاگردوں میں سے ایک کی کمی رہ گئی تھی۔ اُسے پورا کرنے کے لئے شاگردوں نے دو لوگوں کے بیچ قرعہ ڈالا تھا۔ امثال کی کتاب (16:33) میں سلیمان کہتا ہے ’’قرعہ گود میں ڈالا تو جاتا ہے پر اس کے نکلنے کا سارا انتظام خداوند کی طرف سے ہے۔‘‘

کلام پاک جوا گھروں اور لاٹریوں کے اڈوں کی بابت کیا کہے گا؟ جُواگھر ہر طرح کی مارکیٹنگ اور پینترے اپناتے ہیں تاکہ وہ جواریوں سے زیادہ سے زیادہ رقم اینٹھ سکے۔ وہ جواریوں کو سستی شراب مفت بانٹتے ہیں تاکہ نشہ میں دُھت جواری سہی فیصلہ یا چُناؤ نہ کر پائیں۔ ہر جوا گھر کی مشینیں اس طرح سے خراب کی گئی ہوتی ہیں کہ جواریوں سے زیادہ سے زیادہ رقم اینٹھی جاسکے۔ اور جوے میں کھوکھلی خوشی کے علاوہ انہیں کچھ نہ ملے۔ لاٹریاں معاشرتی اور تعلیمی اداروں کو بڑے پیمانے پر چندہ دینے کا دعویٰ کرتی ہیں۔ کسی طرح تحقیقات بتاتے ہیں کہ لاٹری میں شرکت کرنے والے عام طور سے وہ لوگ ہوتے ہیں جو لاٹری کے ٹکٹوں میں سب سے کم خرچہ برداشت کرنے والے ہوں۔ بہت جلد امیر بننے کا لالچ ایک بہت بڑی آزمائش ہے اُن کے لئے جو مایوس ہیں لاٹری میں جیتنے کے موقعے نہ کے برابر نظر آتے ہیں۔ مگر پھر بھی اپنی قسمت آزمانے میں پیچھے نہیں ہٹتے اور اپنے آپ کو روک نہیں پاتے۔ نتیجہ بطور بہت سے لوگوں کی زندگیاں برباد ہو جاتی ہیں۔

کیا لاٹری خدا کو خوش کر سکتی ہے؟ بہت سے لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ لاٹری یا جوا کھیل کر جو پیسے جیتنگے اُسے چرچ میں دینگے یا کسی نیک کام میں لگائینگے۔ جبکہ ہو سکتا ہے کہ ارادہ نیک ہو مگر حقیقت یہ ہے کہ بہت ہی کم لوگ خدا کے مقصد کے لئے جوئے میں جیت کر اُن پیسوں کو استعمال کرنے والے ہوتےہیں۔ اور اس میں خدا کی منشیٰ نہیں ہے۔ تحقیقات بتاتے ہیں کہ لاٹری جیتنے والوں میں سے اکثر لوگ بعد میں چلکر کنگال ہو جاتے ہیں۔ اُن کی مالی حالت پہلے سے بدتر ہو جاتی ہے کچھ سال بعد جب انہیں کسی کھیل کی سب سے بڑی انعام کی رقم ملتی تب وہ بحال ہوتے ہیں۔

بہت کم لوگ ہونگے جو سچ مچ اچھے مقصد کے لئے پیسہ دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ خدا کو اس دنیا میں اپنے مشن کے لئے ہمارے پیسوں کی ضرورت نہیں ہے جو بے ایمانی سے کمایا گیا ہو۔ امثال کی کتاب 13:11 میں سلیمان کہتا ہے ’’جو دولت بطالت سے حاصل کی جائے کم ہو جائیگی لیکن محنت سے جمع کرنے والے کی دولت بڑھتی رہیگی۔‘‘ ہمارا خدا قادرِ مطلق خدا ہے، وہ اپنے لوگوں کی اور کلیسیا کی ضرورتوں کو لوگوں کی ایمانداری کے وسیلے سے پورا کرے گا۔ نشیلی چیزیں بیچ کر جو نفع کمایا جاتا ہے اس پیسے سے یا بینک لُوٹ کر یا ڈاکہ زنی کرکے چوری کے پیسے اگر خدا کے کام کے لئے دینگے تو کیا خدا کو جلال پہنچے گا؟ ہر گز نہیں۔ بالکل نہیں۔ یہاں تک کہ جو پیسہ غریبوں سے زبردستی لیا گیا ہو یا دولتمند بننے کے لالچ سے کمائی ہوئی دولت کی بھی خدا کو ضرورت نہیں ہے۔

1 تموتھیس 6:10 ہم سے کہتا ہے کہ ’’زر کی دوستی ہر قسم کی برائی کی ایک جڑ ہے جس کی آرزو میں بعض نے گمراہ ہوکر اپنے دلوں کو طرح طرح کے غموں سے چھلنی کر لیا ہے۔‘‘ عبرانیوں 13:5 دعویٰ کرتا ہے کہ ’’زرکی دوستی سے خالی رہو اور جو تمہارے پاس ہے اُسی پر قناعت کرو۔ کیونکہ اس نے خود فرمایا ہے کہ میں تجھ سے ہرگز دست بردار نہ ہونگا اور کبھی تجھے نہ چھوڑنگا۔‘‘ متی 6:24 میں خداوند یسوع مسیح نے کہا ’’کوئی آدمی دو مالکوں کی خدمت نہیں کر سکتا۔ کیونکہ یا تو ایک سے عداوت رکھیگا اور دوسرے سے محبت۔ یا ایک سے مِلا رہیگا اور دوسرے کو ناچیز جانیگا۔ تم خدا اور دولت دونوں کی خدمت نہیں کر سکتے۔‘‘



اردو ہوم پیج میں واپسی



کیا جوا بازی ایک گناہ ہے؟ جوابازی کی بابت کلامِ پاک کیا کہتا ہے؟