جب میں مرتاہوں تو مجھے کیسے یقین ہو گا کہ میں جنت میں داخل ہونگا؟



سوال: جب میں مرتاہوں تو مجھے کیسے یقین ہو گا کہ میں جنت میں داخل ہونگا؟

جواب:
یقینی طور سے کیا آپ جانتے ہیں کہ جب آپ مرتے ہیں تو ہمیشہ کی زندگی کے لئے جنت میں جائیں گے؟ خدا چاہتا ہے کہ آپ اس بات کا یقین جانیں! کلام پاک کہتا ہے "میں نے تم کو جو خدا کے بیٹے کے نام پر ایمان لا‍ئے یہ باتیں اس لئے لکھیں کہ تمہں معلوم ہو کہ ہمیشہ کی زندگی رکھتے ہو؟ (یوحنا 5:13)۔ فرض کریں کہ آپ اسی وقت خدا کے حضور کھڑے ہیں اور خدا آپ سے پوچھ رہا ہے کہ "میں تم کو جنت میں کیوں آنے دوں"؟ تو آپ کیا کہیں گے؟ ہو سکتاہےکہ آپ نہیں جانتے کہ خدا کو کیا جواب دیں۔ مگر آپ کو جو بات جاننے کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ خدا ہم سے محبت رکھتاہے اور ہمارے لئے ایک راستے کا انتظام کیا ہے جس سے کہ ہم یقینی طور پر سے جان سکتے ہیں کہ اس میں ہم خدا کے ساتھ ابدیت گزاریں گے۔ جس کو پاک کلام اس طرح سے بیان کرتا ہے کہ "کیونکہ خدا نے دنیا سے ایسی محبت رکھی کہ اس نے اپنا کلوتابیٹا بخش دیا تاکہ جو کوئی اس پر ایمان لائے وہ ہلاک نہ ہو بلکہ ہمیشہ کی زندگی پائے" (یوحنا 3:16)۔

سب سے پہلے ہمیں اس مسئلہ کو سمجھنا ہوگا جو ہمیں جنت جانے سے روکتا ہے۔ مسئلہ ہے ہمارے گناہ کی فطرت جو خدا کے ساتھ رشتہ قائم رکھنے سے روکتی ہے۔ ہم اپنی مرضی سے اور اپنی فطرت سے گنہ گار ہیں۔ "کیونکہ سب نے گناہ کیا ہے اور خدا کے جلال سے محروم ہیں" (رومیوں 3:23) ہم اپنے آپ سے نہیں بچائے جا سکتے۔ "کیونکہ تم کوایمان کے وسیلہ سے فضل ہی سے نجات ملی ہے۔ اور یہ تمہاری طرف سے نہیں بلکہ خدا کی بخشش ہے۔ اور نہ اعمال کے سبب سے ہے تاکہ کوئی فخر نہ کرے" (افسیوں 9-8 :2)۔ ہم موت اور جہنم کے حقدار ہیں۔ "کیونکہ گناہ کی مزدوری موت ہے" (رومیوں 6:23)۔

خدا پاک اور راستباز ہے اور اس کو ہمارے گناہ کی سزا دینے کا حق بنتا ہے اس کے باوجود بھی وہ ہم سے پیار کرتا ہے اور اس نے ہمارے گناہوں کے لئے معافی کا انتظام کیا ہوا ہے۔ یسوع نے کہا "راہ حق اور زندگی میں ہوں۔ کوئی میرے وسیلہ کے بغیر باپ کے پاس نہیں آتا" (یوحنا 14:6)۔ یسوع ہمارے گناہوں کی خاطر صلیب پر مرا۔ "اس لئے کہ مسیح نے بھی یعنی راستباز نے ناراستوں کے لئے گناہوں کے باعث ایک بار دکھ اٹھایا تاکہ ہم کو خدا کے پاس پہنچائے" (1 پطرس 3:18)۔ یسوع مسیح مردوں میں سے جی اٹھا تھا۔ پاک کلام کہتاہے کہ "وہ ہمارے قصوروں کے لئے حوالہ کر دیا کیا اور ہمارے راست باز ٹھہرنے کے لئے جلایا گیا" (رومیوں 4:25)۔

سو پیچھے اصلی سوال کی طرف۔ کہ جب میں مرتاہوں تو مجھے کیسے یقین ہو سکتا ہے کہ میں جنت میں داخل ہونگا؟ تو پھراس کا جواب ہے۔ "خداوند یسوع مسیح پر ایمان لا تو تو اور تیرا گھرانہ نجات پائے گا۔" (اعمال 16:31)۔ "جتنوں نے مسیح یسوع کو قبول کیا اس نے انہیں خدا کے فرزند بننے کا حق بخشا یعنی انہیں جو اس کے نام پر ایمان لاتے ہیں" (یوحنا 1:12) آپ ہمیشہ کی زندگی کو مفت انعام بطور حاصل کر سکتے ہیں۔ ایک بخشش بطور حاصل کر سکتے ہیں۔ "خدا کی بخشش مسیح یسوع میں ہمیشہ کی زندگی ہے" (رومیوں 6:23)۔ ابھی سے آپ بھر پوری اور معنی دار زندگی بسر کر سکتے ہیں۔ یسوع مسیح نے کہا "میں اس لئے آیا کہ وہ زندگی پائیں اور کثرت سے پائیں" (یوحنا 10:10)۔ آپ آسمان میں یعنی کہ جنت میں یسوع کے ساتھ اپنی ابدیت گزار سکتےہیں، کیونکہ اس نے وعدہ کیا ہے کہ "اگر میں جاکر تمہارے لئے جگہ تیارکروں تو پھر آ کر تمہیں اپنے ساتھ لے لوں گا تاکہ جہاں میں ہوں وہاں تم بھی ہو" (یوحنا 14:3)۔

اگر آپ یسوع مسیح کو اپنا شخصی نجات دہندہ قبول کرناچاہتے ہیں اور خدا سے اپنے گناہوں کی معافی حاصل کرنا چاہتے ہیں تو یہاں پر ایک نمونہ بطور دعاپیش کی گئی ہے۔ یاد رکھیں کہ یہ دعا کو یا کوئی اور دعا آپ کو نہیں بچا سکتی۔ صرف اور صرف مسیح یسوع پر بھروسہ کرنے سے ہی آپ کو گناہوں کی معافی مل سکتی ہے۔ یہ دعا محض خداپر آپ کے ایمان اور شکرگزاری کو ظاہر کر تاہے جو اس نے آپ کے لئے معافی کاانتظام کیا ہے۔ "اے خدا میں جانتا ہوں کہ میں نے تیرے خلاف گناہ کیا ہے اور سزا کا حقدار ہوں۔ مگر جس سزا کا میں حقدار تھا اس کو یسوع مسیح نے اٹھا لیا ہے تاکہ اس پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے میرے گناہ معاف ہو نجات کے لئے میں تجھ پر بھروسا کرتا ہوں۔ تیسرے اس عجیب فضل اور بخشش کے لئے تیرا شکریہ! آمین"

جو بھی کچھ آپ نے یہاں پڑھا ہے اس کی بنیاد پر کیا آپ نے مسیح کے لئے فیصلہ لیا ہے؟ اگر آپکا جواب ہاں میں ہے تو برائے مہربانی اس جگہ پر کلک کریں جہاں لکھا ہے کہ آج میں نے مسیح کو قبول کر لیا ہے۔



اردو ہوم پیج میں واپسی



جب میں مرتاہوں تو مجھے کیسے یقین ہو گا کہ میں جنت میں داخل ہونگا؟