کیا بائیبل کے مطابق مشت زنی گناہ ہے؟



سوال: کیا بائیبل کے مطابق مشت زنی گناہ ہے؟

جواب:
کلامِ پاک نے کبھی بھی واضح طور سے مشت زنی کا بیان نہیں کیا یا ذکر نہیں کیا کہ مشت زنی ایک گناہ ہے۔ کلام پاک نے آزادنہ طور سے مشت زنی سے متعلق اونان کی کہانی کا ذکر کیا ہے جو پیدائش 38:9-10 میں پائی جاتی ہے۔ کچھ لوگ اس عبارت کو اس بطور ترجمہ کرتے ہیں کہ بیج کو زمین پر گرانا یا خارج کرنا ایک گناہ ہے۔ کسی طرح صحیح اور صاف طور پر یہ عبارت وہ نہیں کہتی۔ خدا نے اونان کو اس لئے لعنت نہیں دی کہ اس نے نطفہ کو زمین میں گرایا بلکہ اونان نے ایسا کرکے اپنی ذمہ داری کو پورا نہیں کیا جو اس کے بھائی کے لئے وارث پیدا کرنا تھا۔ یہ عبارت مشت زنی سے متعلق نہیں ہے مگر اپنے خاندان کی ذمہ داری کو پورا نہ کرنے کی بابت ہے۔ ایک دوسری عبارت کبھی کبھی مشت زنی کے ثبوت کے طور پر کہ یہ گناہ ہے، استعمال کیا گیا ہے جو متی کے 5 باب کی 27-30 آیت میں پایا جاتا ہے۔ یسوع مسیح نے بری خواہش کے خلاف میں کہا اور پھر یہ بھی کہا کہ اگر تیرا داہنا ہاتھ تجھے ٹھوکر کھلائے تو اُس کو کاٹ کر پھینک دے کیونکہ تیرے لئے یہی بہتر ہے کہ تیرے اعضا میں سے ایک جاتا رہے اور تیرا سارا بدن جہنم میں نہ جائے جبکہ اس عبارت کے بیچ میں مشابہت پایا جاتا ہے اور غالباً مشت زنی کے لئے یسوع حوالہ پیش کر رہا تھا۔

جبکہ بائیبل میں واضح طور سے کہیں پر بھی ذکر نہیں کیا گیا ہے کہ مشت زنی ایک گناہ ہے تو اس پر کوئی سوال نہیں اٹھتا کہ جو عمل مشت زنی کی طرف لے جائے وہ بھی گنہگاری ہے۔ مشت زنی ہمیشہ شہوت سے بھرے خیالات کا نتیجہ ہے، شہوانی یا جنسی ہیجان اپنے جسم میں پیدا کرتا ہے، یا پھر فحش نگاری کے تصورات کو اپنے دماغ میں لانے کا ایک عمل ہے۔ انہیں پریشانی کا سامنا کرتے ہوئے ایک شخص مشت زنی کا شکار ہوتا ہے۔ اگر شہوانی گناہ، بری خواہشات اور فحش نگاری کو چھوڑ دے اور ان پر غالب آجائے تو مشت زنی ایک غیر مسئلہ بن کر رہ جائے گا۔ بہت سے لوگ مشت زنی کی بابت گنہگاری کا احساس کرتے ہوئے کشمکش کر رہے ہیں جبکہ حقیقت میں جو بات اس عمل کی طرف لے جاتی ہے اس سے توبہ کرنا زیادہ فائدہ مند ہے۔

کلامِ پاک کے کچھ اصول ہیں جو مشت زنی کے معاملے پر غور کیا جا سکتا ہے۔ افسیوں 5:3 میں پولس کہتا ہے ’’جیسا کہ مقدسوں کو مناسب ہے کہ تم میں حرامکاری اور کسی بھی طرح کی ناپاکی یا لالچ کا ذکر تک ہو۔‘‘ اس عبارت کے مطابق یہ مشکل سے دیکھا جاتا ہے کہ مشت زنی خاص امتحان سے ہوکر کیسے گزرتا ہے۔ کلام پاک ایک اور عام خیال ہمارے لئے پیش کرتا ہے کہ ’’پس تم کھائو یا پیو یا جو کچھ کرو سب خدا کے جلال کے لئے کرو (1 کرنتھیوں 10:31)۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ فلاں کام سے خدا باپ کو جلال نہیں مل رہا ہے تو آپ اس کام کو نہ کریں۔ اگر ایک شخص کوئی سرگرمی یا اپنے کسی عمل سے پوری طرح یقین دلانے کے قابل نہیں ہے اور خدا کو خوش نہیں کر سکتا تو یہ گناہ ہے۔ پولس رسول ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جو کچھ اعتقاد سے نہیں وہ گناہ ہے (رومیوں 14:23)۔ اس کے علاوہ ہمیں یہ یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ ہمارا جسم چھٹکارا پایا ہوا جسم ہے اور ہمارا جسم اپنا جسم نہیں بلکہ خدا کا جسم ہے۔ ’’کیا تم نہیں جانتے کہ تمہارا بدن روح القدس مقدس ہے جو تم میں بسا ہوا ہے اور تم کو خدا کی طرف سے مِلا ہے۔ پس اپنے بدن سے خدا کا جلال ظاہر کرو۔‘‘ (1 کرنتھیوں 6:19-20)۔ یہی ایک بڑی سچائی اس بات کی گواہی ہونی چاہئے کہ ہم اپن بدن سے کیا کچھ کرتے ہیں۔ ان اصولوں کی روشنی میں ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ مشت زنی بائیبل کے مطابق ایک گناہ ہے۔ پاک کلام کے نظریہ سے اِسے ایک گناہ قرار دیا جاتا ہے۔ یہ صاف ظاہر ہے کہ مشت زنی سے خدا کا جلال ظاہر نہیں ہوتا۔ مشت زنی بدکاری کے اظہار کو نہیں روکتا نہ ہی یہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ ہمارے بدنوں پر خدا کی ملکیت پائی جاتی ہے۔



اردو ہوم پیج میں واپسی



کیا بائیبل کے مطابق مشت زنی گناہ ہے؟