خودکشی کا مسیحی نظریہ کیا ہے؟



سوال: خودکشی کا مسیحی نظریہ کیا ہے؟ خودکشی کے بارے میں کلامِ پاک کیا کہتا ہے؟

جواب:
کلامِ پاک چھ خاص لوگوں کا ذکر کرتا ہے جنہوں نے خودکشی کی۔پہلا ہے ابی ملِک (قضاۃ 9:54)، دوسرا ہے ساؤل (۱ سموئیل 31:4)، تیسرا ہے ساؤل کا سلاح بردار (1 سموئیل 31:4-6)، چوتیھا ہے اخِیتُفل (2 سموئیل 17:23)، پانچواں ہے زمری (1 تواریخ 16:18)، اور چھٹا ہے یہودا سکریوتی (متی 27:5) ان میں سے پانچ شریر تھے۔ گنہ گار لوگ تھے ۔ (ساؤل کے سلاہ بردار کی بابت اس کی سیرت کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں دے سکتے)۔ کچھ لوگ سمسون کو خودکشی کی مثال بطور سمجھتے ہیں (قُضاۃ16:26-31)، مگر سمسون کا نشانہ فلستینوں کو ہلاک کرنے کا تھا، خود کو نہیں۔ کلامِ پاک خودکشی کو قتل کے برابر تصور کرتا ہے۔ جو کہ خود کو قتل کرنے کے برابر ہے۔ خدا ہی ایک واحد شخصیت ہے جو فیصلہ کر سکتا ہے کہ ایک شخص کو کب اور کیسے مرنا ہے۔

کلامِ پاک کے مطابق خود کشی وہ نہیں ہے جو ٹھان لے کہ ایک شخص جنت میں داخلہ حاصل کر لیتا ہے۔ اگر ایک غیر مسیحی شخص خودکشی کرتا ہے تو اس نے کچھ نہیں کیا بلکہ اس کے لئے جہنم میں جانے کی جو بات ٹہرائی گئی ہے اس کو پوری کرنے کی کوشش کی ہے۔ وہ آخِر کار جہنم میں ہوگا کیونکہ اس نے مسیح کے وسیلہ سے نجات کا انکار کیا ہے۔ اس لئے نہیں کہ اس نے خودکشی کی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ ایک مسیحی جو خودکشی کرتا ہے / یا کرتی ہے اس کے لئے کلامِ پاک کیا کہتا ہے؟ کلامِ پاک ہمیں سکھاتا ہے کہ جس لمحہ ہم مسیحی پر سچے طور سے ایمان اور اعتقاد کرتے ہیں اسی لمحہ ہم کو ہمیشہ کی زندگی کی ضمانت حاصل ہو جاتی ہے (یوحنا 3:16)۔ پاک کلام کے مطابق مسیحی لوگ بنا کسی شک کے معلوم کر سکتے ہیں کہ انہیں ہمیشہ کی زندگی حاصل ہے (1 یوحنا 5:13)۔ ایک مسیحی کو دنیا کی یا آسمان کی کوئی بھی چیز خدا کی محبت سے الگ نہیں کر سکتی (رومیوں 8:38-39)۔ اگر نہیں تو بنائی ہوئی چیز ایک مسیحی کو خدا کی محبت سے جدا کر سکتی ہے اور یہاں تک کہ ایک مسیحی جو خودکشی کرتا ہے وہ ایک بنائی ہوی چیز یعنی کہ مخلوق بطور ٹہرتا ہے۔ تو پھر یہاں تک کہ خودکشی بھی ایک مسیحی کو خدا کی محبت سے جدا نہیں کر سکتی۔ یسوع مسیح ہمارے سب گناہوں کے لئے مارا گیا اور اگر ایک سچا مسیحی روحانی حملہ کے دوران اور کمزوری کے دوران خودکشی کرتا ہے تو وہ گناہ بھی مسیح کے خون سے ڈھانکا جاتا ہے۔

اس کے باوجود بھی خودکشی خدا کے خلاف گناہ ہے۔ کلامِ پاک کے مطابق خودکشی ایک قتل کا گناہ ہے۔ یہ ہمیشہ ہی غلط ہے۔ کسی کے اصلی ایمان کی بابت سنجیدہ شکوک کا پیدا ہونا ضروری ہو جاتا ہے جب وہ مسیحی ہونے کا دعویٰ تو کرتا ہے پھر بھی وہ خودکشی کر بیٹھتا ہے۔ ایسی کوئی حالت نہیں ہے جو کسی کے لئے فیصلہ کر سکے خاص طور سے ایک مسیحی شخص کی زندگی کی بابت۔ مسیحیوں کی بلاہٹ اس لئے ہوئی ہے کہ وہ خدا کے لئے ایک اچھی زندگی جئیں اس بات کو دھیان میں رکھتے ہوئے کہ زندگی اور موت صرف اور صرف خدا کے ہاتھ میں ہے اور وہ اپنے وقت پر ہم کو اپنی طرف بُلاتا ہے۔I کرنتھیوں 3:15 حالانکہ خودکشی کو بیان نہیں کرتا مگرغالباً ایک اچھابیان ہے کہ ایک مسیحی جو خودکشی کرتا اس کی کیا حالت ہوتی ہے۔ یہاں اس طرح لکھا ہے کہ ’’جس کا کام جل جائے گا وہ نقصان اٹھا ئیگالیکن خود بچ جائیگا مگر جلتے جلتے۔‘‘



اردو ہوم پیج میں واپسی



خودکشی کا مسیحی نظریہ کیا ہے؟ خودکشی کے بارے میں کلامِ پاک کیا کہتا ہے؟